فیصل آباداوربورڈکے درمیان معاوضوں کا تنازع طول پکڑ گیا

کھلاڑیوں کو کم رقم کے چیک وصول کرنے سے کپتان مصباح الحق نے روکا، ذرائع


Sports Reporter December 17, 2013
فیصل آباد وولفز کے کھلاڑیوں نے روانگی سے قبل پی سی بی کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے

فیصل آباد وولفز اور پی سی بی کے درمیان معاوضوں کا تنازع طول پکڑ گیا، ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کو کم رقم کے چیک وصول کرنے سے مصباح الحق نے روکا، کپتان عبوری انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے معاملہ حل کرانے کیلیے بات کرینگے۔

تفصیلات کے مطابق 17 ستمبر سے6اکتوبر تک بھارت میں شیڈول ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ میں پاکستانی ڈومیسٹک چیمپئن ٹیم فیصل آباد وولفز نے شرکت کی جو کوالیفائنگ رائونڈ سے ہی باہر ہوگئی، پی سی بی کو منتظمین کی طرف سے 5کروڑ روپے سے زائد رقم موصول ہوئی جس میں سے کھلاڑیوں کو فی کس صرف 6لاکھ 75ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا، کرکٹرز نے رقم کم قرار دیتے ہوئے بورڈ کی طرف سے بھجوائے جانیوالے چیک واپس کردیے۔ ایک نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ کھلاڑیوں نے یہ اقدام کپتان مصباح الحق کے کہنے پر اٹھایا، انھوں نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''فی الحال چیک واپس کردیں، اس ضمن میں جلد عبوری کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے بات کروں گا''۔



سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ اور صدر فیصل آباد کرکٹ ایسوسی ایشن چوہدری انور کا کہنا ہے کہ 5 کروڑ حاصل ہونے کے بعد نصف رقم تو کھلاڑیوں میں تقسیم کردینی چاہیے تھی، ہم ٹیم کو بہتر معاوضے دلانے کیلیے کوشاں ہیں، فیصل آباد نے ایونٹ میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا اور کچھ نہیں تو رقم ریجن کے مسائل حل کرنے کیلیے ہی دیدی جاتی لیکن پی سی بی نے ایسانہیں کیا۔ اس حوالے سے ایک بورڈ آفیشل کا کہنا ہے کہ رقم سے ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں منہا کر لیے گئے، فیصل آباد وولفز کے سفری و دیگر اخراجات اور کٹس وغیرہ پر بھی بھاری رقم خرچ ہوئی،ڈومیسٹک کرکٹ پر 40کروڑ روپے خرچ آتا ہے، لہذا پلیئرز کو دیا جانے والا معاوضہ کافی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل آباد وولفز کے کھلاڑیوں نے روانگی سے قبل پی سی بی کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے جس کے مطابق انھیں رقم کی ادائیگی کی جائے۔