ڈرون حملے‘جنرل اسمبلی میں پاکستان کی سفارتی کامیابی

پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں


Editorial December 20, 2013
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے ڈرون حملوں کے خلاف پیش کی جانے والی قرار داد پہلی بار اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے ڈرون حملوں کے خلاف پیش کی جانے والی قرار داد پہلی بار اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرار داد میں 193 ممالک نے حصہ لیا، امریکا سمیت کسی ملک نے قرار داد کی مخالفت نہیں کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ قرار داد پاکستان نے اپنے ہم خیال ممالک کے تعاون سے پیش کی۔ 28 پیرا گرافس پر مشتمل قرار داد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح ڈرونز کے استعمال کو ریگولیٹ کیا جائے، پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں' یہ حملے بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے بھی منافی ہیں۔ قرار داد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے قانونی معاہدے اور فریم ورک کی ضرورت ہے' ان کے استعمال سے قانونی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

امریکا نے دہشت گردی کی جنگ کے نام پر پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز 2006ء میں کیا۔ امریکا کا موقف ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں اور ان کا استعمال درست ہے اگرچہ اب تک ان حملوں میں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما مارے جا چکے ہیں لیکن ان حملوں میں سیکڑوں بے گناہ افراد بھی ہلاک ہو گئے ہیں جن کا اس جنگ میں دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ان بے گناہ افراد کی ہلاکت کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے جس کے منفی اثرات پورے پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔ پاکستان ایک عرصے سے ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ یہ حملے ملکی خود مختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں' ان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اب خوش آیند امر یہ ہے کہ پہلی بار پاکستان کی آواز اقوام متحدہ کے فورم پر سنی گئی ہے اور ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں اور انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ قرار داد میں ڈرون حملوں کی مذمت یا انھیں بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کے تحت لائے جائیں' ڈرون حملوں پر اٹھنے والے قانونی سوالات پر رکن ممالک میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈرون طیاروں کے استعمال پر فوری اور ضروری معاہدے کیے جائیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس قرار داد کا مطلب یہ نہیں کہ جنرل اسمبلی نے ڈرونز حملوں کی مذمت کی ہے اور امریکا دباؤ میں آ کر ڈرونز حملے بند کر دے گا، اس قرار داد کی حیثیت محض اخلاقی ہے جس میں ڈرونز حملوں کے لیے نئے ضوابط کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ڈرونز حملے کرتے وقت انسانی حقوق' اقوام متحدہ کے منشور اور انسانیت کے عالمی اصولوں کا خیال رکھا جائے' بے گناہ شہریوں کے فرق کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کام لیا جائے۔

اگرچہ اس قرارداد میں ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی گئی صرف انھیں قانونی تحفظ دے کر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کو روکنے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کی کسی قرار داد میں ڈرونز حملوں کو شامل کیا گیا ہے جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ علاوہ ازیں جمعرات کو وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے فالو اپ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے طالبان قیادت سے مذاکرات کے حوالے سے رابطوں کے امکانات اور پیش رفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چونکہ طالبان قیادت مجموعی طور پر انتشار اور بے یقینی کی صورت حال کا شکار ہے اس لیے وہ حکومت پاکستان کے رابطہ کاروں سے رابطے بحال کرنے میں بے اعتمادی اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حکیم اللہ محسود کی طرف سے حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے اشارے مل رہے تھے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ طالبان کے اندر ایسے افراد موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ محاذ ارائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

مگر مذاکرات سے قبل ہی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی اور طالبان کی نئی قیادت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے یکسر انکار کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن طالبان کی قیادت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہے لیکن اس سب کے باوجود حکومت پاکستان قیام امن کی خاطر طالبان کو مذاکرات کا ایک موقع ضرور دینا چاہتی ہے اگر طالبان نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی ضد پر اڑے رہے تو پھر حکومت کے پاس آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی میں اس بات پر عمومی اتفاق پایا گیا کہ موجودہ صورتحال میں طالبان قیادت سے مذاکرات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے باوجود حکومت طاقت کا استعمال کرنے سے پہلے اپنی آخری سنجیدہ کوشش ضرور کرے گی۔

حکومت پاکستان کی حتی المقدور کوشش ہے کہ قیام امن کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے اور خون بہانے کی ضرورت نہ پڑے۔ طالبان کو یہ شکوہ تھا کہ ڈرون حملے رکوائے جائیں اب پاکستانی حکومت نے اقوام متحدہ کے فورم پر ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور وہ طالبان کو مذاکرات کی مسلسل پیشکش بھی کر رہی ہے اگر طالبان نے اسی طرح مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں تو حکومت ان کے خلاف آپریشن کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ طالبان کو بھی یہ بخوبی معلوم ہے کہ آپریشن کی صورت میں ان کا شدید نقصان ہو گا اور ان کی طاقت کمزور پڑ جائے گی جس طرح اب جمعرات کو شمالی وزیرستان میں فورسز کے ساتھ جھڑپ اور آپریشن میں 33 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ اگر طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور ایجنسیوں کے بل بوتے پر وہ پاکستانی فورسز کو طویل عرصے تک جنگ میں الجھا کر انھیں شدید نقصان پہنچائیں گے تو وہ غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔

پاکستان کی فورسز کی بھی تمام صورتحال پر بخوبی نظر ہے اور وہ طالبان کے خلاف موثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بھرپور آپریشن کریں گی جس میں حتمی شکست طالبان کا مقدر ہو گی۔ کوئی بھی مسلح گروہ وقتی طور پر حکومتی فورسز کے لیے پریشانی کا باعث تو بن سکتا ہے مگر بالآخر اسے شکست تسلیم کرنا ہی پڑتی ہے۔ طالبان جب مذاکرات کی حکومت پیشکش کو ٹھکرا رہے ہیں تو حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے ان کے خلاف آپریشن کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اب پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہا۔وہ مذہبی اور سیاسی قوتیں جو طالبان کی حمایت اور حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کر رہی ہیں انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان پاکستانی فورسز پر حملے کر کے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اگر یہ قوتیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی خیر خواہ ہیں تو انھیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مستقبل میں پاکستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی میں اضافہ ہو۔