زیادتی کیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو10برس قید

13سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانی بنانے والے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد


Staff Reporter December 21, 2013
استغاثہ کے مطابق29 مارچ 2007 کو تھانہ سائٹ ٹاؤن میں مقدمہ درج ہوا تھا. فوٹو ایکسپریس نیوز/فائل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی عبدالنعیم میمن نے6 برس سے زیر التوا زیادتی کیس میں ملوث ملزم مشتاق کو جرم ثابت ہونے پر10برس قید اور20 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 2 ماہ جیل میں رہنا ہوگا، استغاثہ کے مطابق29 مارچ 2007 کو تھانہ سائٹ ٹاؤن میں مقدمہ درج ہوا تھا، وکیل صفائی نے دلائل میں کہا کہ ملزم کی عمر مقدمے کے وقت 14سال تھی، مقدمہ جونیائل ایکٹ کے تحت چلاتے ہوئے اس کو بری کردیا جائے جس کے بعد پراسیکیوٹرنے اپنے دلائل میں کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزم بالغ ہے اور یہ غیر فطری عمل کرسکتا ہے، اس نے زیادتی کی ہے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے، جس پر عدالت نے ملزم کو قید و جرمانے کی سزا سنادی، دریں اثنا اس ہی عدالت نے اغوا کیس میں ملوث ملزم عبدالصادق عرف صادق کی دائر درخواست ضمانت مسترد کردی، تھانہ جیکسن میں مدعی مقدمہ منگل خان نے مقدمہ درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کی13سالہ بیٹی(ش) اپنی ماں کے ہمراہ غازی کے مزار پر زائرین کو لنگر تقسیم کرنے گئی تھی۔



ملزم نے بہلا پھسلا کر اسے اغوا کرلیا تھا اور زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، تھانہ جیکسن نے متاثرہ لڑکی کی نشاندہی پر ملزم کو گرفتار کیا تھا، علاوہ ازیں صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ کی جج گلشن آرا چانڈیو کی عدالت میں جعلسازی، فراڈ اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں ملوث ملزم شاکر علی شاہ کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کرنے پر عدالت نے پراسیکیوٹر سے جواب طلب کرلیا ہے، ملزم کو اینٹی کرپشن پولیس نے خیر پور سے گرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے پولیس میں بھرتیاں کرانے اور معطل اہلکاروں کو بحال کرنے سے متعلق دستاویزات، وزیر اعلیٰ سندھ کی جعلی دستخط کے لیٹر پیڈ اور جعلی مہریں بھی برآمد کی تھیں، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم عبدالنبی کو 4 جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے، ملزم کے خلاف تھانہ سچل میں مقدمہ درج ہے۔