احتجاجی ریلیاں جمہوری حق لیکن حد سے تجاوز نہ ہو

موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی تقریباً سات ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ اس کی اب تک کی کارکردگی کے خلاف عوامی...


Editorial December 23, 2013
ایم کیو ایم کی جانب سے اتوار کو نئے ترمیمی بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ فوٹو: فائل

موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی تقریباً سات ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ اس کی اب تک کی کارکردگی کے خلاف عوامی مسائل کو ایشو بناتے ہوئے حکومت مخالف جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کرنے اور ریلیاں نکالنا شروع کر دی ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ تین صوبوں پنجاب' سندھ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ایک ہی وقت میں ریلیاں نکالی گئیں' ان ریلیوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کراچی میں اپوزیشن جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی ماضی کی حلیف اور موجودہ برسراقتدار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی اور صوبائی بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور حکومتی کارکردگی پر کھل کر تنقید کی۔ لاہور میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اپنی سیاسی حریف مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف مہنگائی' بیروز گاری اور دیگر عوامی مسائل کو ایشو بناتے ہوئے ریلی نکالی۔ اس ریلی میں جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ نے بھی حصہ لیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عمران ادھر لاہور میں مسلم لیگ ن حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بنا رہے تھے تو پشاور میں اے این پی کے رہنما بشیر احمد بلور کی برسی کے حوالے سے منعقد ہونے والے جلسے میں اے این پی کے رہنما، عمران خان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔

مختلف سیاسی جماعتیں میدان میں اتر کرملک بھر میں سیاسی ہلچل تو مچا رہی ہیں مگر انھیں یہ بات ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ احتجاج ان کا جمہوری حق ہے لیکن اس سیاسی ہلچل میں افراتفری کا عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے۔ انھیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے کہ ملک میں لاٹھی اور گولی چلنے کی نوبت آئے کیونکہ ملک اس وقت جتنے مسائل میں گھرا ہوا ہے وہ سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں بظاہر اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے معاملات کو گھیراؤ جلاؤ کی طرف لے گئیں اور اس کا نتیجہ جمہوریت کے خاتمے کی صورت میں نکلا۔اس وقت اگر ہوش مندی کا مظاہرہ کیا جاتا تو ملک طویل آمریتوں سے محفوظ رہتا۔موجودہ سیاسی جماعتوں کو احتجاجی ریلیاں اور جلسے جلوس ضرور منعقد کرنے چاہئیں لیکن حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ خوش آیند امر ہے کہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو بھی اس کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تینوں صوبوں میں ہونے والی احتجاجی ریلیاں پرامن رہیں اور کسی قسم کا خلفشار اور افراتفری پیدا نہیں ہوئی۔ موجودہ حالات اس امر کی عکاسی کر رہے ہیں کہ عوامی مسائل کے حل کے دعوے پر برسراقتدار آنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت کے ابتدائی سات ماہ کے عرصے میں مہنگائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ بجلی' سوئی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بجائے ان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے روز مرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس کا بوجھ عام آدمی پر بھی پڑا ہے۔ عام آدمی کو امید تھی کہ مسلم لیگ ن کی حکومت پیپلز پارٹی کے دور میں ہونے والی مہنگائی سے اسے نجات دلائے گی مگر موجودہ حکومت کی ابتدائی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کی یہ امید دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔

وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ ابھی چند ماہ ہی میں پٹرول' گیس اور بجلی اتنی مہنگی ہو گئی ہے تو آنے والے دنوں میں کیا ہو گا اور وہ کب تک مہنگائی کی چکی میں پستا رہے گا۔ انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا مگر صورت حال یہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن کے حکومتی ارکان بجلی مہنگی کرنے اور لوڈشیڈنگ جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ چند دن بعد پٹرول مہنگا ہونے کی خبریں بھی آ چکی ہیں۔ سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ بھی بدستور جاری ہے۔ عوام کو پیپلز پارٹی کی حکومت میں جن مسائل کا سامنا تھا آج بھی انھیں وہی مسائل درپیش ہیں بلکہ ان کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ موجودہ مسائل کو ایشو بناتے ہوئے سیاسی میدان سجائیں اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کریں۔ پیپلز پارٹی جو مسلم لیگ ن کی دیرینہ اور عددی لحاظ سے سب سے بڑی مخالف جماعت ہے اس صورت حال میں خاموش کردار ادا کر رہی ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھایا آج پیپلز پارٹی اس کے احسانات کا بدلہ چکاتے ہوئے اپنے لبوں کو قطعی حرکت نہیں دے رہی اور حکومت کو کھل کھیلنے کا موقع دے رہی ہے۔ اس سیاسی تناظر میں مسلم لیگ ن کی صوبائی اور مرکزی حکومت کے لیے سب سے بڑی سیاسی دھمکی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہیں۔ عمران خان ہی مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سب سے زیادہ متحرک اور اسے مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جوں جوں بلدیاتی انتخابات قریب آ رہے ہیں عمران خان زیادہ سے زیادہ عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے حکومت کے خلاف متحرک ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت بھی یہ بخوبی جانتی ہے کہ سیاسی میدان میں اس کا اصل مقابلہ تحریک انصاف ہی سے ہو گا جو اس کی حکومت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

عمران خان نے بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی کھیل کے لیے پھر سے پنجاب خاص طور پر لاہور کی گراؤنڈ کا انتخاب کیا ہے۔ اپنی سیاسی ریلی میں جہاں عمران خان نے حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا وہاں عمران خان کی ریلی کی سیاسی اہمیت کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بھی اسے ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاجی ریلی مہنگائی کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے تھی لیکن اس کے یہ مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔

سیاسی میدان میں سیاستدان اپنے قد کاٹھ بڑھانے اور اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے اور دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ احتجاج کرنا' ریلی نکالنا اور حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے مگر ایک دوسرے کو قائل و معقول کرنے کی اس سیاسی جنگ میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ عوامی مسائل حل کرنے کی آڑ میں سیاسی خلفشار اور مزید مسائل کو جنم نہ دیا جائے۔ عمران خان کی یہ بات بالکل صائب ہے کہ غریبوں کو جینے کا حق دیا جائے اور خود کو لیڈر کہلوانے والے بیرون ملک سے اپنی رقوم واپس لائیں۔ دوسری جانب حکومت اپنی کارکردگی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بہتر بنائے تاکہ اپوزیشن جماعتوں کو اسے ہدف تنقید بنانے کا موقع نہ ملے اور عوام نے جس امید پر اسے منتخب کیا ہے وہ امید بر آ سکے۔