پی آئی اے حویلیاں حادثے کی تحقیقات 4 سال بعد مکمل، انجن میں خرابی کا انکشاف

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 19 نومبر 2020
7 دسمبر 2016 کو ہونے والے حادثے میں جنید جمشید سمیت 48 مسافر جاں بحق ہوئے تھے فوٹو: فائل

7 دسمبر 2016 کو ہونے والے حادثے میں جنید جمشید سمیت 48 مسافر جاں بحق ہوئے تھے فوٹو: فائل

 کراچی: اے اے آئی بی ائر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ نے حویلیاں طیارہ حادثے کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق حویلیاں حادثے کے دوران طیارے کا ایک انجن بند ہوگیا جب کہ دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا۔ 

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کے 2016 میں تباہ ہونے والے اے ٹی آر طیارے کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے شکار اے ٹی آر طیارے کے انجن کو 10 ہزار گھنٹے مکمل ہونے پر اوور ہال نہیں کیا گیا، 7 دسمبر 2016 کو اے ٹی آر طیارے نے چترال سے اسلام آباد کے لیے اُڑان بھری تو انجن کی پاور ٹربائن کا اسٹیج ون بلیڈ یعنی (PT 1 ) بلیڈ ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹا، جس سے پاور ٹربائن شافٹ کی گردش متاثر ہوئی جب کہ او ایس جی پن بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ پاور ٹربائن اسٹیج ون بلیڈ اور او ایس جی پن حادثے سے پہلے پشاور سے چترال آنے کے دوران ہی ٹوٹ چکے تھے مگر پھر بھی طیارے کو اگلی پرواز کے لیے روانہ کردیا گیا، پرواز کے دوران خرابی شروع ہوئی اور یہ خرابی تھی انجن آئل میں ایندھن کی آلودگی شامل ہونا، جس نے ٹوٹے ہوئے او ایس جی پن اور پاور ٹربائن اسٹیج ون بلیڈ کے ساتھ مل کر پروپیلر کی رفتار کم کردی، ان وجوہات کے سبب پروپیلر الیکٹرانک کنٹرول میں خرابی پیدا ہوگئی، بدقسمت طیارے کے پائلٹس نے بالکل ایک نئی قسم کی خرابی دیکھی جو اس سے پہلے اے ٹی آر طیاروں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو ہونے والے اس حادثے میں معروف مذہبی اسکالر جنید جمشید اور عملے سمیت 48 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔