دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کے خلاف صدر کا عزم

پاکستان میں عرصے سے فرقہ پرستی اور جنونیت کے کلچر کو بھی ہوا دی جا رہی ہے


Editorial September 07, 2012
صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتہا پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا اور ہم دہشت گردی کے خاتمے تک ان کے خلاف لڑیں گے۔ فوٹو: رائٹرز

صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کی شب جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر چکلالہ میں یوم دفاع پاکستان کی تقریب سے خطاب کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے کھل کر باتیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کا سامنا ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتہا پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا اور ہم دہشت گردی کے خاتمے تک ان کے خلاف لڑیں گے۔ صدر نے اس موقع پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر1965ء کی جنگ ہو' سیاچن کا محاذ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر مشکل گھڑی میں ہمارے افسروں اور جوانوں نے جرات و بہادری کی تاریخ رقم کی ہے اور ہم عوام کی مدد سے ملک کو درپیش تمام چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے' وہ بالکل درست ہیں۔ پاکستان کو اس وقت جس قسم کی دہشت گردی کا سامنا ہے'یہ ریاست کے خلاف ایک ایسی بغاوت ہے جس کی تہہ میں سیاسی ایجنڈا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے ماسٹر مائنڈ یا نظریہ سازوں نے مذہب کو اس سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھنے کا ایک ہتھیار بنایا ہے۔ پاکستان میں عرصے سے فرقہ پرستی اور جنونیت کے کلچر کو بھی ہوا دی جا رہی ہے' اس کا مقصد بھی دہشت گردوں کے سیاسی ایجنڈے کو سپورٹ دینا ہے۔

وطن عزیز کو اس وقت دہشت گردی کے جس عفریت کا سامناہے' اس کا مقابلہ کرنے کے لیے گولہ بارود کے ساتھ ساتھ نظریاتی ہتھیار کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کا گہرائی سے جائزہ لیں تو ان میں کوئی غیر مسلم باشندہ شامل نہیںرہا۔دہشت گردی کی وارداتوں میں حصہ لینے والے تمام پاکستانی نوجوان ہیں' ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہو یا ملک کے دیگر علاقوں سے یہ سب پاکستانی ہیں۔ عرب' چیچن' افغان اور ازبک جنگجو بھی پاکستانیوں کی مدد سے ہی اس ملک میں پناہ گزین ہیں۔القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی غیر ملکی گرفتار ہوئے، ان کے مدد گار پاکستانی ہی تھے۔

ان حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ آسان نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے ساڑھے چار برسوں میں اس جنگ نے زیادہ شدت اختیار کی ہے۔پاکستان کی فوج اور اس کے اداروں پر دہشت گردوں نے حملے کیے ۔ سوات میں دہشت گرد پورے علاقے پر قابض ہو گئے تھے' انہوں نے اس علاقے میں اپنی رٹ قائم کرلی تھی' اس موقع پر جمہوری حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے پاک فوج کو سوات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مینڈیٹ دیا۔ پاکستان میں شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ پارلیمنٹ نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ منتخب پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے ایجنڈے کو رد کر دیا ہے اور پارلیمان کے ارکان ملک کو ایک ماڈریٹ جمہوری ملک کا روپ دینا چاہتے ہیں۔ قوم نے دیکھا کہ پاک فوج نے سوات سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا۔

آپریشن کے دوران سوات سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ قوم نے ان کی دل کھول کر امداد کی اور پھر کامیاب آپریشن کے بعد حکومت نے انھیں ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کر دیا۔ سوات میں آپریشن کے بعد جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ جنوبی وزیرستان پر بیت اللہ محسود کی حکومت قائم ہو چکی تھی' وہ ایک ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ اس کے باوجود حکیم اللہ محسود کی قیادت میں طالبان جمع ہو گئے اور انہوں نے جنوبی وزیرستان پر اپنا کنٹرول قائم رکھا' ان کا کنٹرول جنڈولہ تک قائم ہو گیا تھا' پاک فوج نے اس مشکل علاقے میں دہشت گردوں کا صفایا کیا اور اب جنوبی وزیرستان میں بحالی کا کام جاری ہے۔

سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں' پل بن رہے ہیں' قبائلی عوام کو مارکیٹیں تعمیر کر کے دی گئی ہیں۔ اس علاقے پر اب پاک فوج کا مکمل کنٹرول ہے' لیکن دہشت گردوں کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ عوام کو فرقہ پرستی کے نام پر گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔بلوچستان میں ہزارہ منگول کمیونٹی کے خلاف دہشت گردی ہو یا ملک کے کسی اور علاقے میں اس کے ڈانڈے دہشت گردوں کے ایجنڈے سے ہی ملتے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کی ذہنی اور نظریاتی تربیت کی بھی ضرورت ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کو ابہام ختم کرنا ہوگاہے۔ سرد جنگ کے نظریات اب پرانے ہوچکے ہیں۔

جس طرح صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے' اسی طرح ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی قیادت کا فرض بنتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔ بعض سیاستدانوں' مذہبی رہنمائوں اور اہل علم کی باتوں اور تحریروں سے ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ مذہب اور عقیدے کی آڑ میں دہشت گردوں سے ہمدردی پیدا کرنے کی دانستہ کوششیں بھی ہو رہی ہیں' اس قسم کی ذہنیت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

صدر مملکت نے بالکل درست کہا ہے کہ دہشت گردوں کا ایجنڈا سیاسی ہے اور وہ گولی کے ذریعے اس ایجنڈے کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کو مکمل شکست اسی وقت دی جا سکتی ہے جب انھیں نظریاتی محاذ پر شکست ہو گی۔ اس حوالے سے پاک فوج اور موجودہ حکومت کا عزم بالکل واضح ہے' اگر وہ اس عزم پر ڈٹے رہیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے عوام دہشت گردوں' انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔