ایمپریس مارکیٹ میں کارروائی لاکھوں روپے کے باز گدھ نیولے اور سانڈے ضبط

صدر میں دیگرپرندوں کی آڑ میں ایسے جنگلی جانوروں اور پرندوں کا کارروبار کیا جارہا ہے،جن کو بیچنے کی ممانعت ہے


Staff Reporter December 22, 2020
دکانوں سے گدھ، 34 باز اوران کے بچے، 7نیولے،3سانڈ وںکے بچے،مرغابیاں تحویل میں لے گئیں،محکمہ تحفظ جنگلی حیات۔ فوٹو: فائل

محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے صدرایمپریس مارکیٹ میں کارروائی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کے نایاب نسل کے گدھ، نیولے، مختلف نسل کے بازاورسانڈے قبضے میں لے لیے۔

سندھ وائلڈ لائف ایکٹ 2020کے تحت نادر و نایاب جنگلی حیات کا کاروبارکرنے والے عناصر کے لیے مزید سخت سزائیں وضع کی گئی ہیں،محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے اسپکٹرنعیم خان کے مطابق خفیہ اطلاع ملی تھی ایمپریس مارکیٹ صدر میں دیگرپرندوں کی آڑ میں کچھ ایسے جنگلی حیات کی خرید و فروخت کا کارروبار کیا جارہا ہے، جن کو بیچنے کی ممانعت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی جانب کارروائی کا علم ہوتے ہی شاہ محمد اورسعید نامی دکانداراپنی دکانوں سے رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے،تاہم ان کی دکانوں میں فروخت کے لیے موجود نایاب نسل کا گدھ،مختلف نسلوں کے 34 بڑے باز اوران کے بچے ، 7نیولے،3سانڈوں کے بچے، فاختائیں اورمرغابیاں تحویل میں لے لی گئیں، جن کی تعداد 60کے لگ بھگ ہے۔

انسپکٹرنعیم خان کے مطابق دکانداروں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی گئی ہے جبکہ تحویل میں لیے گئے پرندوں کونیشنل کیرتھرپارک میں قدرتی ماحول میں آزادکیا جارہا ہے۔

سندھ وائلڈ لائف کے کنزرویٹرجاوید مہر کے مطابق تین ماہ قبل نافذ ہونے والے سندھ وائلڈ لائف ایکٹ سن 2020میں نایاب نسل کے پرندوں کے کارروبارکرنے والے خلاف سنخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، دیہی سندھ میں ان پرندوں کی تجارت کا مرکزدادو، میرپورخاص اورخیرپور جبکہ کراچی میں لیاری ندی، بن قاسم ٹاؤن سمیت کچھ مضافاتی علاقے ہیں،قوانین کے تحت 50ہزارسے ڈھائی لاکھ روپے تک کے جرمانوں کا اختیار بھی ہے، مارکیٹوں میں پرندوں کی تجارت کرنے والے دکانداروں کوحلف نامے کے عوض صرف فینسی پرندوں کی خریدوفروخت کے لیے لائسنس دیا جاتاہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ پے درپے کارروائیوں کے ثمرات ملنے شروع ہوگئے، ایم جناح روڈ ، طارق روڈ اورکلفٹن کی معروف شاہراہوں کے سگنلز پرآہنی پنجروں میں مختلف اقسام کی چڑیاں کثرت سے فروخت کی جاتی تھی،جس میں اب بڑی حدتک کمی آچکی ہے۔