خواہشات کے بے لگام گھوڑے نے خون سفید کر دیا

بہن نے آشنا کے ساتھ مل کر شادی میں رکاوٹ بننے والے اکلوتے بھائی کو مار ڈالا


محمد عدیل چوہدری December 22, 2020
بہن نے آشنا کے ساتھ مل کر شادی میں رکاوٹ بننے والے اکلوتے بھائی کو مار ڈالا۔ فوٹو:فائل

ہمارے معاشرے کی کبھی انتہائی خوبصورت اقدار تھیں، لیکن نہ جانے کس کی انہیں نظر لگ گئی۔ باہمی اخوت وبھائی چارے کی بے مثال داستانیں ہمارے تابناک ماضی کے ساتھ ہی کہیں دفن ہو چکی ہیں، دیہات ومحلّہ اور ہمسائیگی تو دُور کی بات ہے اب تو خونی رشتوں کی حرمت کا احساس بھی دلوں سے ختم ہو تا جارہا ہے۔ آج کی المناک داستان بھی تیزی سے دم توڑتی انہی سماجی اقدار کا نوحہ ہے۔

فیصل کالونی کے رہائشی محنت کش مسیحی خاندان میں یکے بعد دیگر 6 بیٹیوں نے جنم لیا۔ بڑی دعاؤں کے بعد بالآخر دلی مراد پوری ہوئی اور7 واں بیٹا ایلی اسد ممتاز پیدا ہوا۔ 24 سالہ ایلی اسد ممتاز عرف چیتا مسیح شادی شدہ تھا، جو کہ واپڈا میں ملازم تھا اور اس کے بعد 8ویں بیٹی ہوئی، جس کا نام مایہ تھا۔ 21 سالہ مسماۃ مایہ گھر والوں کے بے جا پیارومحبت کی وجہ سے کافی حد تک آزاد خیال واقع ہوئی تھی اور یہ اِسی کا شاخسانہ تھا کہ اُس نے3سال قبل شہر میں واقع میڈیکل لیب کے خوبرو مالک احتشام کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے۔گزرتے وقت کے ساتھ درپردہ دونوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی، آپس میں کبھی جُدا نہ ہونے کی قسمیں کھائی گئیں اور شادی کے عہدوپیما بھی باندھے گئے۔

شادی کے لئے مسماۃ مایہ بی بی10 ماہ قبل اپنے محبوب کے ہمراہ ،عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید شکر گنج ؒ کے دربار پر جا کر اپنا آبائی مذہب ترک کرکے اسلام قبول کرچکی تھی اورباقاعدگی سے اسلامی تعلیم بھی حاصل کر رہی تھی۔

محبت کے جادُو نے دونوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف کر ڈالیں اور اُنہیں اپنی شادی میں کوئی رکاوٹ قابل برداشت نہ تھی، لیکن مقتول چیتا مسیح کی شدید مخالفت دونوں کی شادی میں بڑی رکاوٹ تھی اور اسی دوران چھوٹی بہن کے قبولِ اسلام کی بھنک بھی کہیں سے اُس کے کانوں میں پڑ چکی تھی، جس پر طیش کے عالم میں اس نے اپنی بہن سے قبول اسلام کی صداقت کے متعلق پوچھ گچھ کی تو وہ خوف سے صاف مکر گئی جبکہ چیتا مسیح نے بہن کو وارننگ دی کہ اگر اس الزام میں کو ئی ذرہ بھر بھی صداقت ہوئی تو تمہیں جان سے مار دوںگا۔

بعد ازاں چیتا مسیح قریبی دوستوں سے آتشیں اسلحہ کے حصول کی کوشش بھی کرتا رہا،اس بات کا علم جب چھوٹی بہن کو ہوا تو اُس نے خوفزدہ ہو کر اپنے محبوب احتشام کو تمام تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے اُکسایا کہ اگر میرا بھائی زندہ رہا تو یہ کبھی ہماری شادی نہیں ہونے دے گا اور ممکن ہے کہ وہ مجھے قتل کردے۔

پیار کے خود غرض دیوانوں نے باہم طویل صلاح مشورے کے بعد اپنے راستے کی واحد بڑی رکاوٹ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک روز اپنے المناک انجام سے بے خبر چیتا مسیح نے ملاقات کیلئے آئے احتشام کو بیٹھک میں بٹھاکرتواضع شروع کردی،دوران تواضع احتشام نے اُس کی چائے میں نشہ آور شے ملادی جس سے وہ نیم مدہوش ہو گیا جبکہ کچھ دیر بعد مسماۃ مایہ بی بی بھی وہاں پہنچ گئی اورموقع غنیمت دیکھتے ہوئے اپنے اکلوتے حقیقی بھائی کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر پوری قوت کے ساتھ مخالف سمت میں کھینچنا شروع کردیا، جبکہ اس کے محبوب نے اپنے موبائل پر ویڈیو بنانا شروع کردی،جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ بھائی کو قتل کرتے وقت ہنس بھی رہی تھی۔

اسی اثنا میں مقتول کی بیوی اپنے ہمسائے کے ہمراہ غیر متوقع طور اچانک بیٹھک کی جانب آئی تو انہوں نے اپنے شوہر کو دم گھٹنے سے تڑپتے دیکھ کر شور مچادیا جس پر دونوں ملزمان، اہل محلہ کے اکٹھا ہونے سے قبل ہی گلی میں گھڑی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ افسوسناک قتل کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ سٹی ملک ندیم انور نے اپنی نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، ملزمان کو حراست میں لیا گیا تو انہوں نے اقبال جرم کر لیا۔