بزنس لون اسکیم کی شرائط میں نرمی…ایک صائب فیصلہ

ملک میں بے روز گاری میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے...


Editorial December 29, 2013
بہت سے پڑھے لکھے نوجوان نہ تو ہنر جانتے ہیں اور نہ انھیں کاروبار ہی کا تجربہ ہے، وزیراعظم فوٹو: پی آئی ڈی

ملک میں بے روز گاری میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پڑھے لکھے بے روز گار نوجوانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے قرضہ اسکیم کا اعلان کیا۔ یوتھ بزنس لون اسکیم کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس قرضہ میں دلچسپی لی ہے مگر اس اسکیم میں درج ضامن کی شرط میں نوجوانوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ وزیراعظم نے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ضامن کی شرط میں نرمی کے احکامات جاری کر کے نوجوانوں کے لیے قرضہ کے حصول میں آسانی پیدا کر دی ہے۔ اب قرضہ حاصل کرنے کی ایک درخواست پر ایک سے زیادہ لوگ ضمانت دے سکیں گے۔ درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے ضامنوں کی تین اقسام رکھی گئی ہیں جن میں گریڈ 15 یا اس سے اوپر کا سرکاری افسر جس کی ملازمت میں کم از کم 8 سال باقی ہوں' بھی ضمانتی بن سکتا ہے' دوسرا کوئی بھی شہری جس کے پاس قرضہ کی رقم سے ڈیڑھ گنا مالیت کی رقم ہو اور تیسرا کوئی شخص اپنے چلتے ہوئے کاروبار کو وسعت دینا چاہتا ہو تو وہ خود بھی اپنا ضامن ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس کے پاس کسی بینک میں قرضے کی رقم سے ڈیڑھ گنا زائد رقم موجود ہو۔

وزیراعظم نے مشترکہ ضامنوں کی اضافی کیٹیگری کی منظوری دے کر درست جانب قدم اٹھایا ہے۔ درخواست گزاروں میں زیادہ تر نوجوان نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں' ان کی رسائی بھی اسی طبقے ہی تک محدود ہوتی ہے' اس لیے ان کا کوئی صاحب حیثیت آدمی ضامن نہیں بنتا' ایسی صورت میں بہت سے حق دار درخواست گزاروں کا قرضہ حاصل کرنے میں ناکام ہونے کا خدشہ ہے۔ اب درخواست گزار ایک سے زائد ضامنوں کی مشترکہ ضمانت حاصل کرکے قرضہ حاصل کر سکے گا' اس طرح نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے پڑھے لکھے نوجوان بھی قرضہ حاصل کر کے اپنا کاروبار شروع کر سکیں گے۔ قرضہ اسکیم سے حکومت کو توقع ہے کہ اس سے روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے اور ملک کی معاشی صورت حال میں بہتری آئے گی' اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرضہ ملنے سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ تجزیہ نگار قرضہ اسکیم کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے نوجوان نہ تو ہنر جانتے ہیں اور نہ انھیں کاروبار ہی کا تجربہ ہے اور بہت سے نوجوان تو یہ جانتے ہی نہیں کہ انھیں کیا کاروبار شروع کرنا چاہیے' مناسب کاروبار کے چنائو اور اس کی تیاری میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے پھر نیا کاروبار چلنے میں ایک عرصہ چاہیے' بہت سے کاروبار کچھ ماہ بعد فلاپ ہو جاتے ہیں' کاروباری رموز سے نابلد یہ نوجوان قرضہ کی رقم ڈبو دیں گے پھر انھیں سود کی رقم بھی دینا ہو گی' ایسی صورت میں جہاں یہ نوجوان ایک بار پھر بے روز گار ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کا مقروض ہونے کے باعث شدید مالی دبائو میں آ جائیں گے وہاں حکومتی قرضہ کی بڑی رقم بھی ڈوبنے کا خطرہ ہے اور اس سے وہ فوائد حاصل نہ ہو سکیں گے جس کی حکومت کو امید ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے زیادہ بہتر انداز میں شروع کرے۔

بہتر ہے کہ پہلے نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے' ہنر مند بننے کے بعد کاروبار کے لیے انھیں قرضہ دیا جائے۔ زرعی شعبے میں بھی ان نوجوانوں کو قرضہ دیا جائے جو اس شعبے کا تجربہ رکھتے ہوں یا ان کا زرعی پس منظر ہو۔ اس قرضہ اسکیم کے تحت ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں' ابتدائی مرحلہ میں 6 ماہ میں ایک لاکھ لوگوں کو قرضہ ملے گا، 50 فیصد قرضہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے' قرض کی واپسی کا دورانیہ آٹھ سال اور اقساط کی ادائیگی کا آغاز ایک سال بعد ہو گا۔ پاکستان میں60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد بے روز گاری کا شکار ہے۔ ملائیشیا' جرمنی'کوریا اور جاپان کی ترقی میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے مگر ہمارے ہاں ماضی کی کسی حکومت نے نوجوانوں کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر کوئی پروگرام شروع نہیں کیا۔

پاکستان میں جتنی بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اگر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ نوجوان پاکستان کو دنیا کا خوشحال ملک بنا سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں توانائی کے بحران اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ملک میں جاری معاشی سرگرمیاں کمزور پڑ چکی ہیں۔ بہت سے کارخانے توانائی کے بحران کے باعث مطلوبہ پیداوار نہیں دے رہے دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں روز بروز ہوتا اضافہ بھی صنعتی شعبے پر مالی دبائو بڑھا رہا ہے۔ جب تک حکومت توانائی کا بحران حل نہیں کرتی اسمال انڈسٹریز کا شعبہ تقویت حاصل نہیں کر سکتا۔ عوامی حلقوں کے مطابق ماضی میں حکومتوں کی جانب سے شروع کی جانے والی عوامی فلاحی اسکیموں میں کرپشن کے باعث وہ مطلوبہ ٹارگٹ حاصل نہ کر سکیں۔

اب حکومت نے نوجوانوں کی فلاح اور روز گار کے لیے قرضہ اسکیم شروع کی ہے تو اس پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے ورنہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے گی۔ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ ہفتے کو کراچی میں نیشنل بینک کے ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقعے پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس اسکیم میں درخواستوں کی تصدیق میرٹ پر کی جائے' قرضوں کے اجراء کا عمل انتہائی شفاف ہونا چاہیے اور اس میں کسی کی سفارش اور دبائو قبول نہ کیا جائے۔ صرف قرضہ جاری کرنا ہی کافی نہیں حکومت کو اس اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے اس کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی۔