بنگلہ دیش کا حال احوال

زبیر رحمٰن  اتوار 29 دسمبر 2013
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جب برصغیر کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو عوام برطانوی سامراج سے سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ معاشی آزادی کا بھی مطالبہ کرنے لگے۔ اسی لیے بنگال کے معروف سوشلسٹ رہنما سوبھاش چندر بوش نے انڈین نیشنل آرمی کی تشکیل دی۔ وہ ایک موقعے پر نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے لیکن مذموم سازشوں کے ذریعے انھیں صدارت سے ہٹایا گیا۔ انھیں معاشی آزادی کی پاداش میں بنگال کے کھودی رام، بالا لوگون، باگھا جیتن اور پنجاب (فیصل آباد) کے بھگت سنگھ، راج گورو اور سکھ دیو کو پھانسی کے پھندے کو چومنا پڑا۔ جنوبی بھارت، بنگال اور پنجاب میں تو انقلابی سوشلسٹوں کا بول بالا تھا۔ جہازیوں کی ہڑتال نے انگریز حکمران اور ان کے آلہ کاروں کو عوام نے بے بس کردیا تھا۔ لیکن اس ہڑتال کو کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے ختم کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم در تقسیم کرنے کا برطانوی سامراج کو مواقعے ملتے گئے۔ آج ہندوستان اور پاکستان کے عوام بھوک، افلاس، مہنگائی، بے روزگاری، بیماری اور غربت میں تڑپ رہے ہیں اور ارب پتیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ہر دور میں عوام کا گلا گھونٹا گیا، ان کی آواز کو دبایا گیا۔

جب 1952 میں بنگلہ زبان کو قومی زبان کے طور پر تسلیم کروانے کے لیے تحریک چلی، تو تحریک بڑھتی گئی۔ آخرکار 1954 میں حکومت پاکستان نے بنگلہ کو بھی قومی زبان کے طور پر تسلیم کرلیا اور کرنسی نوٹ پر بنگلہ زبان بھی درج ہوئی۔ اس سے قبل ایک سیاسی جماعت نے کہا تھا کہ چونکہ ہندی بائیں سے لکھی جاتی ہے اور بنگلہ بھی بائیں جانب سے لکھی جاتی ہے۔ اس لیے یہ زبان ہندوؤں کے قریب ہے۔ جب کہ اردو دائیں سے لکھی جاتی ہے اور عربی بھی دائیں جانب سے لکھی جاتی ہے اس لیے اردو ہمارے زیادہ قریب ہے۔ پھر 1954 سے بنگلہ زبان کو حکومت نے قومی زبان کے طور پر تسلیم کرلیا۔

1971 میں دو نشستوں کے علاوہ ساری نشستیں عوامی لیگ نے جیت لیں۔ نیپ اور بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ کسی نے مبارک باد نہیں دی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی 55 فیصد جب کہ مغربی پاکستان کی 45 فیصد تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنرل یحییٰ خان اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کر دیتے اور شیخ مجیب سیدھے سیدھے پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے۔ 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد اس میں دو اتحاد بنے ایک فوج کشی کا حامی جس میں نظام اسلامی، پی ڈی پی اور مسلم لیگ وغیرہ اور دوسری جانب عوامی لیگ، نیپ، کمیونسٹ پارٹی، نیشنل سوشلسٹ پارٹی اور کریشک سرمیک لیگ وغیرہ۔

بعدازاں رجعتی اتحاد نے تنظیمیں یعنی ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیں۔ دوسری طرف ’’جوکتو سنگرام پریشد‘‘ (یونائیٹڈ اسٹرگل کمیٹی) تشکیل دی گئی جس میں 8 شعبے تھے۔ یعنی خبر رساں، عسکری تربیت، سیاسی محاذ، ریلیف فنڈز اور مکتی باہنی (فریڈم فائٹر) شامل تھیں۔ آخر کار مکتی باہنی اتنی خود مختار، خود انحصار اور حقیقی عوامی نمایندہ بن گئی کہ بنگلہ دیش کا حکمران طبقہ خاص کر عوامی لیگ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ مکتی باہنی میں جہاں بائیں بازو (کمیونسٹوں) کا غلبہ تھا انھوں نے اس لڑائی کو طبقاتی لڑائی میں تبدیل کرنا اور اس کی شکل کو عوامی سانچے میں ڈھالنا شروع کردیا تھا۔ مثال کے طور پر ضلع بوگرہ میں جہاں عوامی لیگ سے زیادہ کمیونسٹ حاوی تھے انھوں نے رات 1 بجے بوگرہ جیل کے مین گیٹ کھلوا کے جیل میں مقید 30 ہزار بہاری محنت کشوں کو آزاد کرایا۔ جس طرح مغربی پاکستان میں عام انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بیان دیا تھا جوکہ ’’فار ایسٹرن اکنامکسٹ‘‘ اخبار میں شایع ہوا کہ ’’امریکا نے پاکستان میں کمیونزم کو روکنے کے لیے 20 برس تک جو کچھ نہیں کر پایا ہم نے چند دنوں میں کر دکھایا‘‘۔

ایسا ہی بیان فرانسیسی اخبار ’’لاموترے‘‘ میں شیخ مجیب نے بھی دیا تھا کہ ’’مغربی پاکستان کے حکمران بہت نالائق ہیں، وہ کمیونزم کو نہیں روک پائے بلکہ میں نے روک کر دکھایا۔‘‘ واضح رہے کہ امریکا کا ساتواں بیڑا پاکستان کی مدد کرنے نہیں آیا تھا بلکہ وہ اس لیے آیا تھا کہ مکتی باہنی کو اگر انڈین فورسز قابو نہ کر پائیں تو امریکی فوج کرے گی۔ اس لیے بھی کہ مکتی باہنی یونائیٹڈ اسٹرگل کمیٹی جن میں حاوی عنصر عوامی لیگ تھی کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس نے ہر محلے اور گلیوں میں عوامی کمیٹیاں اور انجمنیں بنانا شروع کر دیا تھا اور مقامی لوگ اپنی ضروریات اور صلح صفائی خود کرنے لگے تھے۔ بینک، ٹریفک، زراعت کے شعبوں، تالابوں میں مچھلی کی کاشت، دھان کی کٹائی اور بٹائی مشترکہ بنیاد پر کرنے لگے، تعلیمی اداروں کو انجمنوں نے چلانا شروع کردیا، عوام کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی عبوری کمیٹیاں بنا لی تھیں۔

ہر محلے میں اسٹڈی سرکل شروع ہوچکا تھا۔ ان کاموں میں نیشنل سوشلسٹ پارٹی نے خاصی حد تک ان کا ساتھ دیا جب کہ عوامی لیگ، نیپ اور کمیونسٹ پارٹی خاص کر ماسکو نواز ان عوامل کو انارکزم کہہ کر رد کرتی رہی۔ کچھ کارکنوں نے کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں مظاہرے کیے جن میں عوامی لیگ کے کارکنان بھی شامل ہوتے تھے۔ مگر پولیس کی سخت کارروائی اور نگرانی کی وجہ سے یہ مظاہرے عوامی نہ بن پائے بلکہ سی پی کے کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان میں مشرقی پاکستان میں سب سے گھناؤنا کردار ایک مذہبی جماعت کا تھا۔ موجودہ حسینہ واجد کی حکومت نے جماعت اسلامی کے خلاف جو ایکشن لیا ہے وہ عوام کو ان کے حقیقی مسائل سے دور رکھنے کے لیے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھوک، افلاس، مہنگائی اور مزدوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم عروج پر ہیں۔ اس کے خلاف مزدوروں نے احتجاج بھی کرنا شروع کردیا تھا۔ خاص طور پر صنعتی عمارت میں آگ سے سیکڑوں مزدوروں کے مرنے کے بعد۔

جماعت اسلامی کے خلاف کیے جانے والے ایکشن سے مزدوروں کی جدوجہد میں رکاوٹ آئی ہے۔ ویسے تو پھانسی مسئلے کا حل نہیں۔ دنیا کے 100 ملکوں میں پھانسی کی سزا نہیں ہے جب کہ 100 ملکوں میں پھانسی کی سزا ہے۔ جن ملکوں میں پھانسی کی سزا نہیں ہے وہاں قتل و غارت گری بہت کم ہے اور جہاں پھانسی کی سزا ہے وہاں قتل و غارت گری زیادہ ہے۔ یورپ، آسٹریلیا اور جاپان میں پھانسی کی سزا نہیں ہے، اس کی جگہ پر عمر قید ہے اور امریکا، چین، بھارت، پاکستان، عالم عرب، ایران، افغانستان وغیرہ میں پھانسی کی سزا ہونے کے باوجود یہاں قتل زیادہ ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب سابق حکومت کے صدر زرداری نے پھانسی کی سزا کی جگہ عمر قید کا اعلان کیا تو اس کی مخالفت کی گئی اور اب بنگلہ دیش میں پھانسی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

ابھی حال ہی میں شمالی کوریا میں بھی وہاں کے سربراہ مملکت کم جون ان کے پھوپھا چانگ سانگ تیک کو حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں فوراً پھانسی دے دی گئی۔ مگر اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ سزا کا مطلب اگر کسی قاتل کو قتل کردیں تو دو قتل ہوگئے۔ بجائے قتل کرنے کے اس کے پیچھے نفسیات کا معالج اور جنرل پریکٹیسیشن کو مسلسل لگائے رکھا جائے جس میں اس کی وجوہات تک وہ پہنچ کر اسے اس راہ سے ہٹائے اور آیندہ دوسروں کو قتل نہ کرنے کی ترغیب دے۔ جب کہ سرمایہ دارانہ نظام میں پتیلی چور جیل سے رہائی کے بعد بھینس چور بن کر نکلتا ہے۔ بنگلہ دیش اور برصغیر اور ایشیا کے عوام کے مسائل کا واحد حل ایک ہموار سماج کی تشکیل ہے۔ جیساکہ پیرس کمیون، انقلاب فرانس، انقلاب روس اور انقلاب اسپین میں ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔