سال نو کے جشن میں نوجوانوں کی بد ترین ہلڑ بازی

سڑکیں بند ہونےسےڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی گھروں میں محصور،ساحل نو گو ایریا بن گیا،شہر بھر میں ٹریفک جام سے شہری پریشان


Staff Reporter January 01, 2014
ایم اے جناح روڈ پربدترین ٹریفک جام ہے،پولیس کی جانب سے ساحل سمندر کی طرف جانیوالی سڑکیں بند کیے جانے پر اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ۔ فوٹو : ایکسپریس

نیو ایئر نائٹ پر موٹر سائیکل سوار منچلے نوجوانوں نے بدترین ہلڑ بازی کی اور پابندی کے باوجود بغیر سائلنسر موٹر سائیکلوں پر گھومتے رہے، اس دوران شہر کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، ٹریفک جام کا مسلح ملزمان نے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں سے لوٹ مار کی۔

پولیس نے ساحل سمندر جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کردیے جس سے شہریوں کے ساتھ ڈیفنس کے رہائشیو ں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا،ضلعی انتظامیہ نے سال نو کے موقع پر موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کردی تھی، تفصیلات کے مطابق نیو ایئر نائٹ کے موقع پر موٹر سائیکل سوار منچلے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور بدترین ہلڑ بازی کی، منچلے پابندی کے باوجود بغیر سائلنسر کی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر دوڑاتے رہے ، انتظامیہ نے 12 گھنٹے کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی لیکن پابندی پر مکمل عمل نہ ہوسکا۔

نوجوانوں نے اس پابندی کو ہوا میں اڑادیا، سال نو پر پولیس کے اپنائے گئے حفاظتی انتظامات میں بوکھلاہٹ اور بدحواسی کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب پولیس نے شام 6 بجے شہر بھر میں پٹرول پمپ زبردستی بند کرانا شروع کردیے اس موقع پر شہریوں، پٹرول پمپ کے عملے اور پولیس اہلکاروں کے مابین بحث اور تند جملوں کے تبادلے پر پولیس شہریوں کو دھمکاتی رہی ،پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ پولیس سربراہ کا حکم پٹرول پمپ بند کرانے ہیں ، پٹرول پمپوں کی بندش اور پٹرول نہ ملنے کے باعث منچلے نوجوانوں کی ٹولیاں سی ویو نہ پہنچ سکیں، شہریوں نے پولیس کی جانب سے اچانک پٹرول پمپ بند کرائے جانے پر پولیس حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ افسران اپنی نااہلی چھپانے کیلیے شہریوں کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس اگر منچلے نوجوانوں کو روکنا چاہتی تو وہ کوئی ایسی حکمت عملی اپناتی کہ وہ ساحل سمندر تک نہ پہنچ سکیں اس کیلیے شہر بھر کے پٹرول پمپ بند کرانا کہاں کی عقلمندی ہے، پٹرول پمپ بند کرائے جانے سے شہریوں خصوصا ایسے موٹر سائیکل سوار جن کے ہمراہ خواتین اور بچے تھے پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے پیدل ہی موٹر سائیکلیں کھینچتے ہوئے دیکھے گئے بلکہ نمائش چورنگی پر بھی کنٹینرز لگادیے جس سے شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا،کورنگی روڈ ، شارع فیصل ، شارع پاکستان ، میری ویدر ٹاور ، بوٹ بیسن اور ایکسپریس وے سمیت شہر کی کوئی شاہراہ ایسی نہیں تھی جہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں نہ ہوں ، بیشتر شاہراہوں پر گاڑیوں میں ایندھن ختم ہوگیا ، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنس گئیں۔

ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی افراد گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، شہر کے دیگر علاقوں سے ڈیفنس میں اپنی رہائش گاہ واپس آنے والے افراد کو بھی پولیس نے شناختی کارڈ چیک کیے بغیر نہیں جانے دیا اور جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھے انھیں سخت مشکل درپیش تھی،پولیس نے ساحل سمندر کو نوگو ایریا میں تبدیل کردیا، ایس پی کلفٹن ندیم راجپوت کے مطابق صرف ساؤتھ زون میں ہی پولیس نے سیکیورٹی پلان کے تحت ڈیڑھ ہزار کی نفری تعینات کی تھی جبکہ 12 رپورٹنگ سینٹر قائم کیے ، دوسری جانب پولیس کے ان اقدامات کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑا اور جہاں دنیا بھر میں نئے سال کی آمد کے موقع پر خوشیاں منائی جارہی تھیں تو ملک کے سب سے بڑے شہرکے شہری سڑکوں پر ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے تھے،مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام کا مسلح افراد نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور شہریوں سے اسلحے کے زور پر لوٹ مار کرتے رہے ۔