معین خان نے ڈومیسٹک پرفارمرز کیلیے آواز اٹھا دی

سلیم خالق  منگل 26 جنوری 2021
پرفارمنس کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو مواقع بھی دینا ہوں گے، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

پرفارمنس کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو مواقع بھی دینا ہوں گے، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

 کراچی: معین خان نے ڈومیسٹک پرفارمرز کیلیے آواز اٹھا دی، سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پرفارمنس کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو مواقع بھی دینا ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہاکہ بابر اعظم کو پلیئنگ الیون کی سلیکشن کا اختیار دینے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں جو اچھی بات ہے، ٹیم آپ خود بناکر دیں تو کپتان کو جوابدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، میں نہیں جانتا کہ ماضی میں دوسرے لوگ جان بوجھ کر سلیکشن معاملات میں ان پر حاوی رہے،بابر اعظم پرفارمر ہیں،ان کیلیے موقع ہے کہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی اہلیت منوائیں،امید ہے کہ وہ اس امتحان میں سرخرو ہوں گے اور ٹیم بھی بہتری کی جانب گامزن ہوگی،میں یہ بھی توقع کررہا ہوں کہ وہ کچھ وقفے سے میدان میں اترنے کے باوجود گذشتہ فارم برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ پروٹیز مضبوط حریف اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں،پاکستان ٹیم کے پاس تجربہ کم مگر ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہیے،بیٹنگ مضبوط ہے اگر بولنگ بھی چل جائے تو سیریز جیت سکتے ہیں۔

معین خان نے کہا کہ سازگار کنڈیشنز میں تجربہ کار یاسر شاہ کی بولنگ فارم واپس آ سکتی ہے،پچ سے ذرا سی بھی مدد ملی تو مہمان بیٹنگ لائن مشکل میں ہوگی، نیوزی لینڈ میں انھیں باہر بٹھاکر ظفر گوہر کو کھلانے کا فیصلہ غلط تھا۔

سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ ڈومیسٹک پرفارمرز کو میرٹ پر منتخب کرنا درست اقدام ہے،سسٹم کی قدر کریں گے تو نئی نسل کو تحریک ملے گی،من پسند کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی وجہ سے گذشتہ 10سال میں کئی آئے اور چلے گئے،بہرحال ٹاپ پرفارمرز کو لائے ہیں تو مواقع بھی دیں، دباؤ میں آکر ایک میچ کے بعد باہر نہ کردیں۔

جنوبی افریقہ سے سیریز کے بعد ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کی کارکردگی کا ریویو اور دباؤ کے سوال پر معین خان نے کہا کہ دباؤ تو ہر کام میں ہوتا ہے،ظاہر سی بات ہے کہ پرفارمنس نہیں ہوتی تو تبدیلیاں کرنا پڑیں گی،تشکیل نو کے حوالے سے کوچز کا کوئی پلان سامنے نہیں آیا۔

سرفرازکی عمر ہے،نوجوان بھی سامنے آرہے ہیں زیادہ محنت کریں

سرفراز احمد کے مستقبل کے بارے میں سوال پر معین خان نے کہا کہ وکٹ کیپر بیٹسمین کی صلاحیتوں میں کسی کو شک نہیں لیکن مقابلے کا دور ہے،محمد رضوان تینوں فارمیٹ میں پرفارم کررہے ہیں، سرفراز احمد کو اپنی صلاحیتیں منوانا ہوں گی،ان کیلیے موقع ہے کہ پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے ٹیم میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کی راہ ہموار کریں، ان کی عمر ہے، دوسری طرف نوجوان بھی سامنے آرہے ہیں،سرفراز احمد کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اعظم نے اپنی کارکردگی سے سفارشی اور ان فٹ ہونے کا ٹیگ اتار دیا

معین خان کا کہنا ہے کہ اعظم نے اپنی کارکردگی سے سفارشی اور ان فٹ ہونے کا ٹیگ اتار دیا،سابق کپتان نے کہا کہ ہر باپ کو اولاد کی ترقی سے خوشی ہوتی ہے مگر میں ایک پروفیشنل کے طور پر چیزوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہوں، اس سطح پر پہنچنا آسان مگر مقام برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے،مشقت کرنا اور قربانیاں دینا پڑتی ہیں،میں اپنے بیٹے اعظم خان کو بھی یہ باتیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں،اس نے پاکستان کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،اللہ کرے اسی طرح ردھم میں رہے۔

انہوں نے کہا کہ اعظم کا پاکستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی میں کھیلتے ہوئے پرفارم کرنا اچھی بات ہوگی، ٹیلنٹ کا تو دنیا کو پتہ چل گیا ہے،اعظم خان نے اپنی کارکردگی سے سفارشی اور ان فٹ ہونے کا ٹیگ ہٹا دیا،وہ یا کوئی اور کھلاڑی ہو محنت کا صلہ مل ہی جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔