وزیراعلیٰ نے بلاول کے حکم پر ہمارے رہنماؤں کے فارم ہاؤسز مسمار کیے تحریک انصاف

اسٹے آرڈرز کے باوجود کارروائی؟ حلیم عادل، سندھ حکومت نے شروعات کی اب اختتام کا انتظار کرے، خرم شیر زمان، فردوس نقوی


Staff Reporter February 06, 2021
اسٹے آرڈرز کے باوجود کارروائی؟ حلیم عادل، سندھ حکومت نے شروعات کی اب اختتام کا انتظار کرے، خرم شیر زمان، فردوس نقوی (فوٹو : انٹرنیٹ)

ملیر میں فارم ہاؤسز مسمار کیے جانے پر تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف کارروائی پر سندھ حکومت کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا۔

یہ بات پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ، سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان اور پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی بلال غفار نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جس طرح بلی تھیلی سے باہر آتی ہے آج لگتا ہے سارے جانور باہر آچکے ہیں، سندھ حکومت کا اصل مکروہ چہرہ سامنے آگیا ہے اور اس نے اپنی اوقات دکھا دی، آج مراد علی شاہ نے بلاول زرداری کے کہنے پر ملیر پی ٹی آئی کے لوگوں کے فارم ہاؤسز مسمار کرنے کا آپریشن شروع کیا اور میرے رشتہ داروں کی قانونی زمینوں پر چھٹی کے دن کارروائی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میرا 4 ایکڑ اراضی پر پولٹری فارم تھا جس پر بینک سے قرض لیا گیا جو بعد میں ادا کردیا گیا، 99 سالہ لیز کے لیے اپلائی کیا گیا تھا، عدالت کے اسٹے آرڈر کی موجودگی میں بدمعاشی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کہتے ہیں ایس بی سی اے کارروائی کررہا ہے، ہفتے والے دن کارروائی کی گئی تاکہ اتوار کو عدالت نہ جایا جاسکے، میرے کزن طارق قریشی اور میرے بھائی عظیم عادل شیخ کی زمینوں کی ایک ایک انچ کے کاغذ موجود ہیں، ڈھائی سال سے سندھ حکومت کے لوگ میرے پیچھے پڑے ہیں لیکن ان کے پاس میرے خلاف کسی جرم کا کوئی ثبوت نہیں۔

یہ پڑھیں : کراچی؛ ملیر میں گرینڈ آپریشن کے دوران 70 فارم ہاؤسز مسمار، 548 ایکڑ زمین واگزار

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ان لوگوں نے پوری سندھ کی زمینیں کوڑیوں کے داموں فروخت کیں؛ ہماری یہ زمینیں 2002ء سے ہمارے پاس ہیں اچانک انہیں کارروائی کیوں یاد آگئی؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضوں پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور شروعات ہم سے کی جائے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈے اے) کے سیکٹر کے سیکٹر پر قبضے کروائے گئے، ناصر حسین شاہ اور مراد علی شاہ نے سندھ میں سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی، جامشورو، ملیر، ٹھٹھہ میں پانچ ہزار ایکڑ زمینوں پر قبضے کروائے گئے، اب سندھ کی کرپشن کے خلاف جنگ مزید تیز ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، ناصر شاہ بلاول زرداری کے کہنے پر فارم ہائوس پر پی پی کے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر لوٹ مار کی گئی، انہوں نے میری آواز بند کرانے کے لیے میرے رشتہ داروں کو نشانہ بنایا، آج انہوں نے اچھی بسم اللہ کی ہے ہم انہیں بے نقاب کرتے رہیں گے۔

اسٹے آرڈرز کے باوجود کارروائی؟ نوٹس تک نہ دیا، فردوس نقوی

فروس شمیم نقوی نے کہا کہ سندھ حکومت کی آج کی کارروائی کو بلیک ڈے کہتے ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ معاملے پر سوموٹو ایکشن لیں کہ اسٹے آرڈرز کے باوجود کارروائی کیوں کی گئی؟ حلیم عادل شیخ نے سارے ثبوت اور اسٹے آرڈر دیئے ہیں، سندھ حکومت نااہل ہے جس نے بنا کسی نوٹس یہ کارروائی کی، اگرتعمیرات غیر قانونی تھی کیوں بننے کیوں دی؟ اور پہلے نوٹس دیا جاتا لیکن یہ نہیں کیا گیا۔

سندھ حکومت نے شروعات کی اب اختتام کا انتظار کرے، خرم شیر زمان

پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے کہا سندھ حکومت کی انتقامی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، وفاقی حکومت غیر قانونی طور تعمیر بلاول ہاؤس کے خلاف بھی کارروائی کرے، سیہون میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کو روندتے ہوئے جنگلات پر قبضہ موجود ہے، سیہون میں بھڈاپور، راجڑی، آمری، کنداہ، شاہ گڑھ، خیرودیرو کے جنگلات پر وزیراعلیٰ کے دوستوں کے قبضے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ میں سب سے بڑے لینڈ گریبر ہیں، سندھ کی زمینوں کو کوڑیوں کے بھاؤ بلڈرز کو بیچا گیا، ملیر کی زمینوں اور جنگلات پر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا قبضہ ہے، سندھ حکومت نے شروعات کی ہے اب وہ اختتام کا بھی انتظار کرے۔