سینیٹ ویڈیو اسکینڈل پر وزیراعظم کا ردّعمل سامنے آگیا

ویڈیوز حکمران طبقات کی جانب سے قوم کے اخلاقیات کی مکمل تباہی کی عکاس ہیں، وزیر اعظم کا ٹوئٹ


ویب ڈیسک February 09, 2021
وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں بھی سینیٹ انتخابات اور حالیہ ویڈیو پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔(فوٹو، فائل)

سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی مبینہ خریدوفروخت کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کا ردعمل سامنے آگیا۔

اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج ویڈیوز سے واضح ہو چکا کہ سیاستدان کیسے شرمناک طریقے سے سینیٹ میں ووٹ خریدتے اور بیچتے ہیں.ویڈیوز حکمران طبقات کی جانب سے قوم کے اخلاقیات کی مکمل تباہی کی عکاس ہیں. کرپشن اور منی لانڈرنگ کا سائیکل ہمارے سیاسی اشرافیہ کی ایک گھناونی داستان ہے.کرپٹ سیاستدان اقتدار میں آنے کے لئے پیسہ خرچ کرتے ہیں. کرپٹ سیاستدان سیاسی طاقت حاصل کرکے پیسہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے بیوروکریٹس، میڈیا اور دیگر فیصلہ سازوں پر بھی پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ کرپٹ سیاستدان قوم کی دولت لوٹ کر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اکاونٹس اور اثاثے بناتے ہیں۔ پی ڈی ایم کا گٹھ جوڑ اس کرپٹ نظام کی حمایت کرکے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ ہم قوم کو بدنام کرنے والے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے اس چکر کو روکنے کے لئے پرعزم ہیں۔



یہ خبر بھی پڑھیے: سینیٹ الیکشن میں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات اور حالیہ ویڈیواسکینڈل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو ضمیر فروش ووٹ بیچے گا وہ عوام کا کیوں سوچے گا۔ کرپشن سے اقتدار میں آنے والا بھی کرپشن ہی کرے گا۔قدرتی وسائل کے باوجود ملکوں کو کرپشن تباہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان بالا میں پیسے سے آنے والے کی ترجیحات عوام کی فلاح نہیں اپنی فلاح ہوتی ہے۔جو انتخابات میں شفافیت کے مخالف ہیں وہی پیسہ لے کر ٹکٹیں بیچتے ہیں۔ لوگ سیاست میں پیسہ بنانے آتے ہیں،ہم اسی سوچ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔پی ٹی آئی کا مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کو اسدعمر،شہزاد اکبر اور شوکت یوسفزئی نے شرکاء کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ 2014 سے انتخابی اصلاحات کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پی ٹی آئی وفد نے ن لیگ کے دور حکومت میں بھی انتخابی اصلاحات کے لیے ملاقاتیں کیں۔ پی ڈی ایم سمجھتی ہے ہمیں اپنے ارکان کا ڈر ہے۔ اقتدار جانے سے ڈرتے تو کے پی کے حکومت میں 20 ایم پی ایز کو فارغ نہ کرتے۔ ضمیر فروشی کی ویڈیو نے ہمارے موقف کو تقویت دی۔

یہ خبر بھی پڑھیے: سینیٹ ویڈیواسکینڈل، وزیر اعظم کا وزیرقانون کے پی سے استعفی لینے کا فیصلہ

وزیر اعظم عمران خان نے ترجمانوں کو حکومتی موقف موثر انداز میں اجاگر کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مقبول خبریں