ن لیگ کی حکومت نے مشرف کی ہی نجکاری پالیسی اپنالی حصص کے ساتھ اداروں کے اثاثے بھی خطرے سے دوچار

عالمی سطح پربڈنگ کے باوجود اداروں کوانتہائی عجلت میں بیچنے کامنصوبہ،حکومت بعض امریکی کمپنیوں کونوازنا چاہتی ہے،ذرائع


Irshad Ansari January 06, 2014
نجکاری کیلیے منتخب31اداروںکی موجودہ مفادات کونسل سے منظوری بھی نہیں لی گئی،ذرائع،اسکی ضرورت نہیں،ترجمان وزارت خزانہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت ملکی اداروںکوفروخت کرنے کیلئے پرویز مشرف سے بھی دوہاتھ آگے نکل گئی ،امریکی دوستوں کو نوازنے کیلئے حساس اور اہم اداروں کی فوری نجکاری کی پالیسی اپنالی ،حصص کیساتھ ساتھ اداروں کے اثاثے بھی ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ ہے۔

''ایکسپریس'' کو ملنے والی دستاویز ات کے مطابق نجکاری ڈویژن کے سربراہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تجویز پر وفاقی حکومت نے اداروں کی نجکاری کیلیے پیپلزپارٹی کے دور کی فہرست اپنالی ہے ۔ موجودہ حکومت نے نجکاری کیلئے جن 31 اداروں کو منتخب کیا ہے ، یہ ان 65 اداروں کی فہرست سے لئے گئے ہیں جن کی منظوری پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مشترکہ مفادات کونسل نے دی تھی تاہم اس میں سے پاکستان سٹیل ملز کو نکال دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے نجکاری کیلئے منتخب ان اداروں کی نئی بننے والے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہیں لی بلکہ صرف کابینہ کی نجکاری کمیٹی سے ہی منظوری لی ہے۔ اسی فہرست میں شامل 11 اداروں کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کی منظوری دینے کیلئے 8 جنوری کو نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عجلت میں ان اداروں کی نجکاری چاہتی ہے کیونکہ یہ ایسے ادارے ہیں جن کی عالمی سطح پر بڈرز کی شمولیت بھی ہونا باقی ہے اور نجکاری کا عمل مکمل ہونے کیلئے کم ازکم 18 ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے تاہم یہاں او جی ڈی سی ایل جیسے اہم ادارے کی نجکاری 9 ماہ میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بعض امریکی کمپنیوں کو نوازنے کیلئے جلد بازی سے کام لے رہی ہے ، خصوصاً آئل اینڈ گیس سیکٹر کے قیمتی ذخائر واثاثہ جات امریکی آئل کمپنیوں کو دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ 8 جنوری کو نجکاری کمیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں یونائیٹڈبینک لمیٹڈ میں حکومتی حصص کی سٹاک مارکیٹ کے ذریعے نجکاری اور پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کے علاوہ پی آئی انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے نیویارک میں قائم روز ویلٹ ہوٹل اور سکرائب ہوٹل فرانس کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر تعینات کرنیکی منظوری پر غور ہوگا۔

اس کے علاوہ نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی ، 1350 میگاواٹ کے مظفر گڑھ تھرمل پاور سٹیشن، فیصل آباد الیکٹر سپلائی کمپنی ، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے حصص کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر تعینات کرنے کی منظوری کا بھی جائزہ لیاجائیگا۔ اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی سٹریٹیجکل سیل کی منظوری دینے پر بھی غور ہوگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں او جی ڈی سی ایل کے 15 فیصد شیئرز گلوبل ڈیپازٹری رسیٹس (جی ڈی آرز) کے ذریعے بین الاقوامی سٹاک مارکیٹ میں فروخت کئے گئے تھے ، اب موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کی نجکاری پالیسی کو ہی آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ نجکاری کمیشن بورڈ کو بھجوائی جانیوالی سمری میں تجویز دی گئی ہے کہ یوبی ایل میں حکومتی حصص کی سٹاک مارکیٹ کے ذریعے فروخت کیلئے لیڈ منیجر ور بک رنرز تعینات کرنے کی منظوری دی جائے اور اس کے بعد اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے شیئرز کی فروخت کیلئے حجم کا تعین کیا جائے۔

 photo 7_zps5ace1b49.jpg

پی آئی اے 26 فیصد حصص کی انتظامی کنٹرول کیساتھ فروخت کے حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ مارچ 2014 تک فنانشل ایڈوائزر تعینات کرنیکی منظوری دی جائے اور دسمبر 2014 تک حصص کی نجکاری کی جائے۔ فیسکو کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کے حوالے سے 2 آپشن دیئے گئے ہیں ، پہلے آپشن کے تحت پہلے سے تعینات کردہ فنانشل ایڈوائزر انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کو برقرار رکھ کر اور دوسرے آپشن میں نئے ایڈوائزر کی تعیناتی کرکے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی کی درخواستیں وصول کرنیکا کہا گیا ہے۔ نیشنل پاور کنسٹرکشن کارپوریشن کی نجکاری کے حوالے سے بھی دو آپشن دیئے گئے ہیں ، پہلے آپشن کے تحت نجکاری کا عمل میسر کسب بینک کے کنسورشیم کیساتھ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں آخری مرحلے میں تھا جبکہ دوسرے آپشن میں کہا گیا ہے کہ فنانشل ایڈوائزر تو کسب بینک کے کنسورشیم کو ہی برقرار رکھا جائے مگر 88 فیصد حکومتی حصص کی فروخت کیلئے اظہار دلچسپی کی تازہ درخواستیں طلب کرنے کی اجازت دی جائے۔

سمری میں مظفرگڑھ تھرمل پاور پراجیکٹ کی نجکاری کیلئے بھی فنانشل ایڈوائزر تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پی آئی اے انوسٹمنٹ کمپنی کے نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سٹی بینک اور کُشمن اینڈ ویک فیلڈ پر مشتمل کنسورشیم کو ہی دوبارہ سے تعینات کیا جاسکتا ہے تاہم اس کیلئے شرائط و ضوابط پرانے ہونگے جبکہ دوسرے آپشن کے تحت اس ہوٹل کی نجکاری کیلئے نئے سرے سے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کا کہا گیا ہے ۔ اسی طرح پیرس میں واقع سکرائب ہوٹل کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔ اوجی ڈی سی ایل کی نجکاری کے حوالے سے سمری میں تجویز دی گئی ہے کہ شیئرز کی عالمی اسٹاف مارکیٹ میں جی ڈی آرز کی صورت میں فروخت کیلئے ایسے کنسورشیم کی بطور فنانشل ایڈوائزر کی منظوری دی جائے جو کم ازکم 2 مالیاتی اداروں پر مشتمل ہو اور اس کے پاس عالمی مارکیٹ میں کامیابی کیساتھ جی ڈی آرز جاری کرنے کے بارے میں واضع اور ثابت شدہ صلاحیت ہو ۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کے شیئرز کی مقامی سٹاک مارکیٹ میں نیلامی کیلئے بھی ڈومیسٹک پبلک آفرنگ کی جائے اور جس کنسورشیم کو تعینات کیا جائے اس میں ایک مقامی مالیاتی ادارہ بھی شامل ہونا چاہیے جو نیلامی کے حوالے سے انتظامات مکمل کرسکے ۔ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے حصص کی نجکاری کیلئے بھجوائی جانیوالی سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ پانچ فیصد حصص اڑھائی فیصد گرین شو آپشن کیساتھ فروخت کرنے کی منظوری دی جائے اور ان حصص کی فروخت کیلئے شیئر کی فلور پرائس مقرر کرنے کے میکنزم کی منظوری دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی نجکاری جس کیلئے بین الاقوامی مارکیٹ میں جانا ہو اور ملکی وغیر ملکی سطح پر بڈرز کی شمولیت کیساتھ مسابقت کے عمل کو بھی یقینی بنانا ہو ، اس کیلئے کم ازکم 18 ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن حکومت او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جیسے اہم حکومتی ذخائر و وسائل کی نجکاری میں بہت زیادہ عجلت کا مظاہرہ کررہی ہے کیونکہ نجکاری کمیشن کو جو سمری بھجوائی گئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مارچ 2014 کے آخر تک تعینات کیا جائیگا جبکہ نجکاری دسمبر 2014 تک مکمل کرلی جائے گی اس لحاظ سے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کے بعد یہ عرصہ صرف 9 ماہ بنتا ہے ۔

وزارت خزانہ کے ترجمان رانا اسد امین نے موقف ظاہر کیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بننے والے مشترکہ مفادات کونسل نے جن 65 اداروں کی نجکاری کی منظوری دی تھی ، یہ 31 ادارے اس فہرست میں شامل ہیں جنہیں حکومت نجکاری کیلیے پیش کرنے جارہی ہے اور اس کی کابینہ کمیٹی سے منظوری لی گئی ہے، یہ ادارے اس فہرست میں بھی شامل ہیں جس کی 1997ء میں مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی گئی تھی ، اس لئے کونسل دوبارہ منظوری لینے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت امریکی کمپنیوں کو نوازنے کیلئے عجلت میں اداروں کی نجکاری کرنے جارہی ہے۔ رانا امین نے کہا کہ نجکاری اتنی شفاف ہوگی کہ اس پر سب کو حیرت ہوگی، اس عمل میں تمام آئینی پہلوئوں کو مدنظر رکھا جائیگا، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ نجکاری کا عمل 6 ماہ میں مکمل کیا جارہا ہے ، صرف ان اداروں کی نجکاری کم ازکم 18 ماہ میں مکمل ہوتی ہے جن کی عالمی سطح پر بڈنگ ہونا ہو اور ایسی نجکاری 18 ماہ میں ہی مکمل ہوگی لیکن بعض ایسی ٹرانزیکشنز جس میں شیئرز مقامی مارکیٹ میں پیش کرنا ہو، 6 ماہ میں بھی ہوسکتی ہے۔