ایشیا کپپاکستان اے سی سی کے متضاد بیانات پر چراغ پا

بنگلہ دیش میں سیکیورٹی اوراپنے ملک کیخلاف جذبات پرتحفظات ہیں،سیٹھی کا خط


Sports Reporter January 08, 2014
20جنوری کو ڈھاکا میں آئی سی سی میٹنگ کے لیے نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اے سی سی کے متضاد بیانات پر چراغ پا ہو گیا، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے خط میں واضح کیاکہ ایشیا کپ میں شرکت کے حوالے سے گذشتہ دنوں اجلاس میں سبحان احمدنے تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔

بورڈ کا نمائندہ20جنوری کو بنگلہ دیش میں آئی سی سی سیکیورٹی میٹنگ کے دوران حالات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریگا۔تفصیلات کے مطابق امن و امان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال کے باوجود ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ایشیا کپ کو بنگلہ دیش میں ہی کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا، بنگالی چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق کے بیانات اور بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہی تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستان سمیت ایونٹ میں شرکت کرنے والے تمام ممالک نے بنگلہ دیش کی میزبانی برقرار رکھنے کیلیے گرین سگنل دیدیا ہے، دوسری طرف پی سی بی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا، حالات کا بغور جائزہ لینے کا بعد معاملہ آئی سی سی کی آئندہ میٹنگ میں زیر بحث لایا جائے گا۔

 photo 3_zps9fd01140.jpg

گذشتہ روز بورڈ کی عبوری کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے اس حوالے سے اے سی سی کے صدر کو خط تحریر کر دیا، انھوں نے لکھا کہ اے سی سی میٹنگ میں چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے جو موقف پیش کیا اس میں اور میڈیا میں پھیلائی جانے والے اطلاعات میں تضاد ہے، بنگلہ دیش میں سیکیورٹی خاص طور پاکستان کے معاملے میں مخالفانہ جذبات پر ہمارے تحفظات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی سی بی نے ایک نمائندہ 20جنوری کو ڈھاکا میں شیڈول آئی سی سی سیکیورٹی میٹنگ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو حالات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریگا۔ انھوں نے مزید کہاکہ ایشیا کپ میں شرکت کے حوالے سے پی سی بی کا موقف واضح ہے، ایونٹ کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ امن و امان کی صورتحال، حکومتی ہدایات اور رپورٹس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی کریںگے۔