پاکستان کے ممتاز سائنسداں اور دانشور ڈاکٹر شکیل فاروقی انتقال کرگئے

ڈاکٹر شکیل فاروقی کی نگرانی میں متعدد اسکالرز نے پی ایچ ڈی کیا اور وہ باقاعدہ کالم نگار بھی تھے۔


ویب ڈیسک March 15, 2021
پاکستان کے ممتاز ماہرِ جینیات، کالم نگار، شاعر اور استاد ڈاکٹر شکیل فاروقی کراچی میں انتقال کرگئے ہیں۔ فوٹو: ڈاکٹر شکیل فاروقی فیسببک پیج

LONDON: پاکستان کے ممتاز سائنسداں، شاعر، استاد اور کالم نگار ڈؑاکٹر شکیل فاروقی انتقال کرگئے۔

کورونا وائرس میں مبتلا جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی کی عمر 61 برس تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین بعد نمازِ مغرب جامعہ کراچی میں ادا کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ جینیٹکس کے پروفیسر، مصنف، ممتاز سائنسدان، کالم نگار ڈاکٹر شکیل فاروقی 26 فروری کو کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے، وہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھے اور کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا ڈاکٹر شکیل فاروقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے 19 سال کی عمر میں جامعہ کراچی میں داخلہ لیا اور بہت کم عمری میں ہی طلبہ کے حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھانا شروع کی۔ ڈاکٹر شکیل فاروقی 1982 اور83 میں اسٹوڈنٹ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔



انجمن اساتذہ نے کہا کہ انہوں نے امریکہ سے پی ایچ ڈی کیا اور جولائی 2020 میں ریٹائرمنٹ ہونے تک اپنے ملک کی خدمت کے لئے واپس آئے۔ وہ 2016 اور 2017 میں کراچی یونیورسٹی اساتذہ سوسائٹی کے صدر بھی رہے۔ ڈاکٹر شکیل ایک عظیم انسان اور قائد تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔



بعد نماز مغرب ڈاکٹر شکیل فاروقی کی نماز جنازہ جامعہ کراچی کی مسجد ابراہیم میں ادا کی گئی جس میں جامعہ کراچی کے پروفیسر و اساتذہ سمیت شعبہ تعلیم سے وابستہ شخصیات شریک ہوئی۔ جامعہ کراچی کے قبرستان میں ہی انہیں سپردخاک کردیا گیا، دریں اثناء کراچی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی کے انتقال پر وفاقی اُردو یونیورسٹی کی قائم مقام شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک اچھے محقق، استاد اور انسانیت پسند تھے انہوں نے تعلیم و تحقیق کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت وبلند درجات عطاء فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کریں۔

ڈاکٹر شکیل فاروقی سیدنا برہان الدین انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹکس سے وابستہ تھے اور شرفِ جامی کے نام سے باقاعدہ کالم نگار بھی تھے۔ ان کی تحریریں علم و تحقیق اور وطن سے محبت کی گواہی دیتی ہیں۔

مقبول خبریں