یکساں اورقابل قبول بلدیاتی نظام ناگزیر

درحقیقت مسئلہ بلدیاتی نظام کی افادیت سے انکار کا نہیں اس پر بعض اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا ہے


Editorial September 08, 2012
فنکشنل مسلم لیگ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر پگارا نے وزیراعلیٰ سندھ کا فون سننے سے بھی انکار کردیا۔ فوٹو فائل

لاہور: پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اتفاق کے بعد نافذ کیے جانے والے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا نوٹیفکیشن عنقریب جاری ہوگا تاہم نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے ساتھ ہی حکومتی اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج اور مظاہروں کے بعد صورتحال خاصی تبدیل ہورہی ہے اور ارباب اختیار کے لیے اس معاملہ پر ملک گیر و کثیر جہتی مشاورت کرنا ناگزیر بھی ہے اور وقت کا تقاضہ بھی۔

درحقیقت مسئلہ بلدیاتی نظام کی افادیت سے انکار کا نہیں اس پر بعض اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا ہے، بلدیاتی انتخابات اگر ہوں گے تو پورے ملک میں کرانے ہوںگے اس لیے نظام سب کے لیے یکساں اورقابل قبول ہونا چاہئے۔ سندھ میں نافذ کردہ بلدیاتی نظام میں اب سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو زیادہ تر بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کا کنٹرول دیا گیا ہے ۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ طاغوتی قوتوں اور خفیہ ہاتھوں کے پے رول پرکام کرنے والے عناصر صوبے سندھ کاامن خراب کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ادھر سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 کے نفاذ کے بعد پیپلز پارٹی اور اتحادیوں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) ، نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور مسلم لیگ (ق) کے صوبائی وزیر شہریار مہر نے حکومت سے علیحدگی اور قوم پرستوں کی 13ستمبر کی ہڑتال کا بھی اعلان کردیا ہے۔

جب کہ فنکشنل مسلم لیگ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر پگارا نے وزیراعلیٰ سندھ کا فون سننے سے بھی انکار کردیا۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکریٹری امتیاز شیخ نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے ذریعے سندھ کو توڑنے کی سازش کی گئی،ن لیگ کے جنرل سیکریٹری سلیم ضیاء نے آرڈیننس کی شدید مخالفت کی ۔اے این پی نے بھی مزاحمت کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ آرڈیننس انتظامی طورسندھ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صدر اور وزیراعظم کوحالات کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور سندھ سمیت باقی صوبوں کے لیے بھی قابل عمل،عوامی امنگوں سے ہم آہنگ یکساں بلدیاتی نظام کے نفاذ کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے تاکہ صوبوں کے عوام اپنے روزمرہ کے مسائل گھر کی دہلیز پر حل کراسکیں۔اتفاق رائے کے لیے ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ، مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہئے۔