ڈاکٹر جمیل جالبی کا طلسم خانہ خطوط

دنیائے قدیم سے دنیائے جدید تک خطوط انسانی رابطوں کے لیے موثر ذریعہ ثابت ہوئے۔


رونق حیات April 18, 2021

رابطوں کی دنیا میں خطوط کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ روابط انسانی کی۔ دنیائے قدیم سے دنیائے جدید تک خطوط انسانی رابطوں کے لیے موثر ذریعہ ثابت ہوئے اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کا آئینہ دار بنے۔

ادب کی دنیا میں سب سے پہلے غلام دستگیر بے خبر کے خطوط منظر عام پر آئے جو باقاعدہ لکھے گئے تھے، نامہ نگاری کے ہنر نے غالب کو ان کے خطوط کے آئینے میں بہترین نثر نگار قرار دیا تھا اور ادبی دنیا میں خطوط غالب کو بہت اہمیت حاصل ہوئی۔

یہ خطوط غالب نے اپنے ہم عصروں، عزیزوں، شاگردوں کو حال احوال کے لیے اور نوابین کو اپنے وظائف کے لیے لکھے تھے۔ جو بعدازاں کتابی شکل میں منصہ شہود پر نمودار ہوئے اور اپنے نقوش گہرے کرتے چلے گئے۔ مرزا انوشہ کی ہمہ جہت شخصیت، شاعری اور خطوط کو ایک دوسرے سے نہ کسی کم تر مقام پر رکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایک دوسرے سے الگ کیا جاسکتا ہے گویا غالب کے طلسم ہوش رُبا میں جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔

اور یہ ایک ادبی مثلث کی طرح ہے اسی طرح غیر منقسم ہندوستان میں بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے رومانی خطوط اچانک پڑھے لکھے سماج میں تہلکہ مچانے آئے تھے یہ خطوط نہرو نے انگریزی زبان میں اپنی باطنی محبتوں کے اظہار کے لیے ہی لکھے تھے جو بلاشبہ شاہکار خطوط تھے لیکن خطوط نگاری کا تذکرہ صفیہ جانثار اختر کے بغیر ادھورا سا ہے۔

صفیہ جانثار اختر نے اپنے شوہر ممتاز ترقی پسند شاعر و فلمساز جانثار اختر کی شہر بدری پر جو خطوط لکھے وہ ہجر و وصال کی محبت آمیز کہانیاں ہیں جن میں ایک ہجر زدہ عورت نے تنہائی کی اذیت ناکیاں لکھیں اور ایسی زبان استعمال کی کہ یہ خطوط ''زیرلب'' کے نام سے کتابی شکل میں دنیائے ادب کا بے مثل نمونہ اظہار بن گئے۔ دراصل یہ ایک مشرقی عورت کی درونِ ذات کی وہ سچائیاں ہیں جو عورت کا مقام راہِ وفا میں اس طرح طے کرتی ہیں جس کے لیے اقبال نے کہا،

''وفاداری بہ شرطِ استواری اصل ایماں ہے''

ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصیت سے کون آگاہ نہیں وہ ایک محقق ہیں، لغات و ترجمہ نگار ہیں اور بساطِ دانش و بینش کا افتخارِ عظیم ہے۔ خطوط کی دنیا میں سرسید احمد خان، حسرت موہانی، مجنوں گورکھپوری کے خطوط بھی کسی طرح نظرانداز نہیں کیے جاسکتے ہیں جب کہ اختر شیرانی نے تو اپنے محبت نامے منظومات کی شکل سے پیش کیے۔ اور ایک نیا رخ دے کر ان میں رومان کی چاشنیاں بھریں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کی علمی، ادبی، تحقیقی خدمات کا اعتراف تمام دنیا کے ادبی پلیٹ فارموں پر ان کی زندگی میں کیا جاچکا ہے ان کی رحلت دنیائے ادب کا نقصان عظیم ہے۔ 2020 میں حکومت پاکستان نے ان کی خدماتِ جلیلہ کے پیش نظر پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ نشان امتیاز سے انھیں نوازا۔ یہ اعزاز نہ صرف یہ کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے قرابت داروں بلکہ پاکستان کے ادبی سماج کے لیے نہایت خوش آیند ہے کیونکہ ڈاکٹر جمیل جالبی پاکستانی ادب کے بنیاد گزاروں میں سے ایک ہیں۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کراچی نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام ''نامور خواتین کے خطوط'' شایع کرکے مکتوب نگاری کے موضوع کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے۔ برقی مراسلت کے سبب نامہ نگاری تقریباً معدوم ہی ہوگئی ہے اور نامہ اور نامہ نگاروں کو رومانی دنیا میں جو مقام حاصل ہوا تھا وہ نقش برآب ہوتا نظر آ رہا ہے جو خطوط ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام نامور خواتین کے عنوان سے شایع ہوئے ہیں اس کی تحقیق و تدوین کا بار گراں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد خاور جمیل اور ڈاکٹر نسیم فاطمہ کے شانوں پر ہے۔

یہ خطوط یکسر مختلف نوعیت کے خطوط ہیں ان کی ادبی اور سماجی اہمیت کی بنیاد نظریہ ضرورت پر ہے کیونکہ خطوط کی روح میں مکالمہ انتہا کو پایا جاتا ہے اور مراسلت کی نوعیتیں ایسی ہیں کہ کردار بولتے محسوس ہوتے ہیں یہ ادبی دنیا کا گنجینہ روابط ہے جو ڈاکٹر جمیل جالبی کے خزینہ ادبیات میں موجود ہے یہ تقریباً دو سو خواتین کی مراسلت کا طلسم خانہ ہے۔جن میں جو معروف و کم معروف قلم کار خواتین شامل ہیں۔ یہ نسائی نامے جو ڈاکٹر جالبی کو لکھے گئے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

اختر سیدہ، ادا جعفری، ارم پروین، اسماء احمد، الطاف فاطمہ، امِ امارہ، انجمن آرا، انیتا غلام علی، آسیہ بانو، آمنہ ابوالحسن، آمنہ بیگم، آمنہ مجید ملک، آمنہ ممتاز، بسم اللہ نیاز احمد، بلقیس جہاں، بلقیس محبوب، پروین ملک، پروین سرور، ترین روبینہ، ثاقبہ رحیم الدین، ثروت جمال، ثریا حسین، ثمر بانو، ثمینہ راجہ، ثمینہ شوکت، ثمینہ مختار، جمیلہ ہاشمی، جیلانی بانو، چاند بی بی سلطانہ، عصمت چغتائی، حامدہ مسعود، حاجرہ خاتون، حنا فیصل، حمیرا خاتون، حمیرا رحمن، خالدہ قریشی، خالدہ شفیع، خالدہ سراج، خدیجہ مستور، خورشید بیگم، خوشنود خان، ذکیہ حیدر، رضیہ عزیز، رابعہ مسرور، رابعہ سردار، رخسانہ سہام مرزا، راحت نسیم، راشدہ شاہین، روبینہ نہال، رشیدہ رضوی، رضیہ سجاد ظہیر، رعنا ملک، روبینہ شاہین، روحیلہ ملک افروز، ریحانی زیدی، ریحانہ خویشگی، رضوانہ اشفاق، زاہدہ بقائی، زاہدہ حنا، زاہدہ بیگم یوسفی، زبیدہ آغا، زرینہ زمن، امِ سلمیٰ، زہرہ نگاہ، سائرہ ہاشمی، ساجدہ زیدی، ستارہ بیگم، سعدیہ راشد، عنبرین عارف، سعیدہ عروج مظہر، سعیدہ احسان، سکندر النساء کامل، سلطانہ بخش، سیدہ جعفر، سلطانہ چاند بی بی، سعدیہ انجم، شاہینہ تبسم، شازیہ ناز عروج، شائستہ اکرام اللہ، شبانہ احمد، شبنم شکیل، شکیلا اختر، شمسہ کلثوم حسین، شہزادی بیگ، شہناز پروین، شیما مجید، شازیہ یٰسین، شہناز شورو، شائستہ حمید، شہناز نور، شکیلہ رحمن، شمائلہ عزیز، شمیم اختر، صائمہ خیری، صبیحہ خاتون، صابرہ سعید، صبیحہ، صدیقہ، صدیقہ ارمان، صدیقہ جاوید، صفیہ بانو، صفیہ سلطانہ صدیقی، صغرا رحمن طاہرہ صدیقی، طاہرہ ناز، طلعت سلطانہ۔ مفتی طلعت جمالی، عارفی فرید، عابدی احمد، عالیہ سید، عابدہ ریاست رضوی، عابدہ پروین، عذرہ افتخار، عذرا اصغر، عذرا شمیم، عذرا ظہور، عروج ماہ منیر، عشرت آفرین، عنبرثمین، عفت موہانی، علینہ بشیر، عنبر ہاشمی، عائشہ صدیقہ، عیاں رشیدہ، فاطمہ ثریا بجیا، فرخندہ عزیز، فرح رحمن، فرحانہ حیدر، فردوس حیدر، فرحت پروین، فرحت نواز، فرحت مرزا، فرزانہ چیمہ، فرزانہ حسن، فہمیدہ خاتون، فہمیدہ ریاض، قرۃ العین حیدر، قدسیہ انصاری، کشور ناہید، کلثوم اختر، کنور انور سلطان، کنول ڈبائیوی، گوہر بیگم، ماہ طلعت، مسرت جبیں، معظمہ تبسم، ممتاز شیریں، منیبہ مظہر، مہر سلطانہ، ناہید رحمن، نزہت جبیں، نزہت فاطمہ، نسیم انجم، نسیمہ بنت سراج، نسیم فاطمہ، نگہت سلیم، نگہت سلطانہ، نگہت مرزا، نگہت اجمل، نورالصباح بیگم، نیر طاہرہ، نزہت عباسی، نسرین راشد ، واجدہ تبسم، ہاجرہ مسرور، یاسمین حسن، یاسمین حمیدہ وغیرہ۔یہ خطوط چونکہ ایک عظیم ادبی ہستی کو لکھے گئے تھے لہٰذا ان میں حسب مراتب کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور ویسے بھی ان خطوط کے محرکات میں ذاتی، پیشہ ورانہ، اہم واقعات، کتب و رسائل، ادبی انجمنیں اور تخلیقات پر نقد و نظر بالخصوص شامل ہے۔

اس کتاب کی یہ خوبی صرف نظر نہیں کی جاسکتی کہ مکتوب نگار کا ایک صفحے پر بھرپور انداز میں تعارف کرایا گیا ہے خطوط کی دنیا میں ڈاکٹر جالبی کے نام نامور خواتین کے خطوط ڈاکٹر جمیل جالبی کا طلسم خانۂ خطوط کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ اس کی مزید پرتیں کھلنے کے امکانات ابھی روشن ہیں، مگر آج کی اس بامقصد تحریر کا منبع و مرکز و ہ خطوط ہیں جو عالمی شہرت یافتہ قلم کار خواتین نے ڈاکٹر جمیل جالبی کو ان کے مکتوب کے جوابی مکتوب کے طور پر لکھے۔

مقبول خبریں