بجلی مہنگی کرنے کے بجائے ٹیکس نظام بہتر بنایا جائے

پاکستان میں توانائی بحران جہاں ایک طویل عرصے سے جاری ہے وہاں حکومت وقفے وقفے سے بجلی اور گیس کی قیمتوں...


Editorial January 13, 2014
ملکی اور غیر ملکی معاشی ماہرین کئی بار پاکستانی حکومتوں کو سبسڈی ختم کر نے کا مشورہ دیتے آ رہے ہیں ۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں توانائی بحران جہاں ایک طویل عرصے سے جاری ہے وہاں حکومت وقفے وقفے سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ اب آئی ایم ایف پاکستان مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے حکومت پاکستان کو سبسڈی کا بوجھ کم کرنے کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ اتوار کو ایک نجی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں جیفری فرینک نے کہا کہ سستی بجلی گردشی قرضوں کا باعث بن رہی ہے' پاکستان یا تو بجلی مزید مہنگی کرے یا پیداواری لاگت میں کمی کرے۔ پاکستان میں بجلی ہائیڈل اور تھرمل ذرایع سے پیدا کی جا رہی ہے، ہائیڈل ذریعے سے بجلی کی پیداواری لاگت کم اور تھرمل ذریعہ سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ ایک طویل عرصہ سے ملک میں کوئی بڑا ڈیم بھی نہیں بنایا گیا' کالا باغ ڈیم جو بڑے پیمانے پر بجلی کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی خوشحالی بھی لا سکتا ہے' سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ بجلی کی زیادہ پیداوار تھرمل ذرایع سے کی جا رہی ہے جس کی پیداواری لاگت زیادہ ہونے سے حکومت بھی عوام کو بجلی مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہے لہذا عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت سبسڈی دے رہی ہے جس سے حکومتی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ملکی اور غیر ملکی معاشی ماہرین کئی بار پاکستانی حکومتوں کو سبسڈی ختم کر نے کا مشورہ دیتے آ رہے ہیں ۔ اگر حکومت سبسڈی ختم کر کے بجلی مہنگی کرتی ہے تو نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں لوگ مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ جب بجلی مہنگی ہو گی تو اس کے اثرات سے غریب طبقہ کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے ماہرین بجلی کی قیمت بڑھانے کا درست مشورہ دے رہے ہوں مگر حکومت بھی یہ بخوبی ادراک رکھتی ہے کہ اگر اس نے سبسڈی کا بوجھ ختم کرنے کے لیے بجلی مہنگی کی تو اس کے منفی اثرات انتخابی نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے اس کے سستے پیداواری منصوبے شروع کرے۔ دوسری جانب حکومت اپنی آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنائے۔ عوامی حلقوں کا یہ الزام ہے کہ ٹیکس وصولی کا ایک بڑا حصہ سرکاری اہلکاروں کی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے اگر سرکاری اہلکاروں کی کرپشن ہی کا انسداد کر لیا جائے تو حکومت کی آمدن میں اربوں روپے کا اضافہ خود بخود ہو جائے گا۔ بجلی چوری اور لائن لاسز سے بھی حکومت کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے دوسری جانب ایک طبقہ وہ بھی ہے جو بجلی کا بل ہی ادا نہیں کرتا ۔ حکومت ان مسائل پر قابو پانے پر توجہ دے تو اسے بجلی مہنگی کرنے اور سبسڈی ختم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی ۔ عوام توقع کرتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی مہنگی کرنے کے بجائے اس کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کر کے مشکلات پر قابو پائے گی۔