اسٹیٹ بینک کی اقتصادی جائزہ رپورٹ

گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف 9.5 فیصد سے حیرت انگیز طور پر کم ہو کر 7.4 فیصد رہی.


Editorial January 16, 2014
گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف 9.5 فیصد سے حیرت انگیز طور پر کم ہو کر 7.4 فیصد رہی. فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2012-13 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق معاشی نمو کا کوئی بھی ہدف پورا نہیں ہو سکا' جی ڈی پی معاشی نمو کی شرح کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا گیا تھا جب کہ اس کی شرح 3.6 فیصد رہی' اسی طرح زرعی شعبے کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا تھا مگر زرعی پیداوار میں اضافہ کی شرح 3.3 فیصد جب کہ صنعتی شعبہ میں 3.8 فیصد ہدف کے مقابلہ میں 3.5 فیصد شرح رہی۔ دوران سال حکومت نے کمرشل بینکوں سے 939.6 ارب روپے اور اسٹیٹ بینک سے اضافی 506.9 ارب روپے قرض لیا' اس طرح پاکستان کا ملکی قرضہ 19 کھرب روپے بڑھ گیا جو مالی سال 2012ء کے آخر سے 24.6 فیصد زیادہ ہے۔

2013-14 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ تو مالی سال ختم ہونے کے بعد ہی کہیں جاری ہو گی مگر رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کی اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اسے قطعی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف 9.5 فیصد سے حیرت انگیز طور پر کم ہو کر 7.4 فیصد رہی جو 2007ء کے بعد سب سے کم شرح ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے روز مرہ اشیا مہنگی ہوئی ہیں نتیجتاً غربت کی شرح میں اضافہ ہونے سے معاشی اور معاشرتی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مہنگائی ہونے سے آمدن کے مقابل اخراجات بڑھنے سے عام آدمی مالی مشکلات کا شکار ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی ماہ میں ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو گیا تھا اور یہ ریکارڈ سطح پر جا کر نیچے آنا شروع ہو۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں کمی آئی نتیجتاً ملکی قرضوں کی شرح میں خود بخود اضافہ ہو گیاعلاوہ ازیں حکومت اور تجارتی شعبے کے درآمدی بلوں میں بھی خودبخود اضافہ ہونے سے اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں مالی سال مہنگائی کے حساب سے عوام کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

رواں مالی سال میں حکومت نے کشکول توڑنے کے اپنے دعوئوں کے برعکس آئی ایم ایف سے مزید قرضے لے کر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیا، حکومت نے گردشی قرضے ادا کرنے کا اعلان کیا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سے ملکی خزانے پر کتنا بوجھ پڑا اور کتنا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا اور اسے پورا کرنے کے لیے کیا پالیسی اختیار کی گئی کیونکہ گزشتہ مالی سال میں حکومت نے گردشی قرضہ ادا کرکے شعبہ توانائی کو مسلسل تیسرے سال سہولت دی مگر اس سے مالیاتی خسارہ ان برسوں کے اہداف سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ بیرونی رقوم کی آمد کم ہونے کی وجہ سے مالیاتی خسارے کا بوجھ تمام تر ملکی وسائل خصوصاً بینکاری نظام پر پڑا۔ حکومتوں نے مالیاتی خسارہ پورا کرنے کا آسان حل ڈھونڈ رکھا ہے کہ فی الفور بینکوں سے قرضہ لے لیا جائے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ حکومت بینکوں سے قرضہ لے کر وقتی طور پر مالیاتی خسارے سے تو نکل آتی ہے مگر کوئی ایسی مربوط اور منظم معاشی پالیسی نہیں اپناتی کہ اسے آیندہ بینکوں سے قرضہ نہ لینا پڑے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں کے انتظام کی مشکلات' ٹیکس نیٹ کو بڑھانے' غیر ہدفی زر اعانت کو قابو میں رکھنے' شعبہ توانائی میں چوری اور رسائو سے نمٹنے اور نجی شعبے کی بحالی کے معاملات مالی سال 2013ء کے دوران زیادہ تر جوں کے توں رہے۔ آئی ایم ایف کو قسطوں کی ادائیگی کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے پاس سیال زرمبادلہ کے ذخائر آخر جون 2013ء تک 6 ارب ڈالر رہ گئے جو 55 ماہ کی پست ترین سطح ہے۔ موجودہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی مربوط معاشی پالیسی سامنے نہیں آئی۔ حکومت ملکی وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے مالی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کرے ورنہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار کی پالیسی سے ترقی کے دعوے صرف دعوئوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔سلامتی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مسلسل ڈھانچہ جاتی کمزوریاں معاشی نمو کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رواں مالی سال کے دوران ملکی ترقی کی 4.4 شرح نمو مقرر کی گئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہدف پورا ہو سکے گا۔ کیونکہ ایک جانب توانائی کا بحران بھرپور طور پر موجود ہے تو دوسری جانب بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں، بجلی چوری کا مسئلہ بھی حل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے، سیکیورٹی مسائل بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں اور حکومت دہشت گردوں کے خلاف عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکی۔ موجودہ ملکی معاشی حالات اس امر کی پیش گوئی کر رہے ہیں کہ رواں مالی سال میں مہنگائی ہدف سے زیادہ رہے گی اور حکومت مالیاتی خسارہ پر قابو پانے کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور ہو جائے گی۔ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھائے کیونکہ ملک کا طاقتور طبقہ تمام سہولتوں سے بہرہ ور تو ہو رہا ہے مگر ٹیکس چوری کا مرتکب ہو رہا ہے۔ حکومت ملکی مفاد میں جو بھی پالیسی تشکیل دے اس پر عملدرآمد یقینی بنائے صرف پالیسی بنا دینے سے مسائل حل نہ ہوں گے۔