انضمام الحق کے ساتھ موازنہ درست نہیں صہیب مقصود

سابق کپتان کے مجموعی اسکور کا نصف بنانے کو بھی اپنی کامیابی سمجھوں گا


Sports Reporter January 25, 2014
سابق کپتان کے مجموعی اسکور کا نصف بنانے کو بھی اپنی کامیابی سمجھوں گا۔ فوٹو: فائل

بیٹنگ میں مستقبل کی روشن امید صہیب مقصود نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ابتدا میں ہی انضمام الحق جیسے شہرہ آفاق کرکٹر سے موازنہ درست نہیں، کیریئر کے دوران سابق کپتان کے مجموعی اسکور کا نصف بھی بنانے کا موقع مل گیا تو اسے اپنی کامیابی سمجھوں گا،مصباح رول ماڈل ہیں، کپتان کی رہنمائی میں کھیل کو بہتری کی طرف گامزن کرنے کا موقع ملا۔

تفصیلات کے مطابق صہیب مقصود نے برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں اپنے انضمام الحق کے ساتھ موازنے کو قبل از وقت قرار دیا، انھوں نے کہاکہ شائقین کو میری اور سابق کپتان کی بیٹنگ میں مماثلت نظر آتی ہے، میں نے خود بھی نوٹ کیا کہ کور میں ایک اسٹروک کا انداز ان سے ملتا جلتا ہے،دونوں کو ملتان کے ایک ہی کلب کی طرف سے کھیلنے کا موقع بھی ملا لیکن ابتدا میں ہی موازنہ اضافی دبائو کا باعث بنتا ہے، کیریئر کے دوران سابق کپتان کے مجموعی اسکور کا نصف بھی بنانے اور ان جیسی چند عمدہ اننگز کھیلنے کا موقع مل گیا تو اپنی کامیابی سمجھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ مصباح الحق نوجوان کرکٹرز کی بھرپور حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے ہیں،کپتان ٹھنڈے مزاج کی بدولت خود چیلنج قبول کرتے ہوئے دوسروں کیلیے مثال بنتے ہیں،وہ میرے رول ماڈل ہیں۔

 photo 7_zps6f4a3a27.jpg

صہیب مقصود نے کہا کہ کیریئر کا آغاز کرنے کا موقع ملنے اور چند اچھی اننگز کھیلنے کو بھی اعزاز سمجھتا ہوں،ٹیسٹ کرکٹ کیلیے فکر مندی سے توجہ منتشر ہوگی، فی الحال سیٹ ہونے کے بعد وکٹ گنوانے کی خامی پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہوں، طویل فارمیٹ میں کھیلنے کا موقع ملا تو صلاحیتوں سے انصاف کرنے کی پوری کوشش کروں گا، کئی سال تک پاکستان کی نمائندگی کا خواب پورا کرنا چاہتا ہوں۔انھوں نے کہا کسی دبائو کے بغیر کھیلنا میرے عمومی مزاج کا حصہ ہے، ڈیبیو پر جنوبی افریقی کھلاڑیوں نے نیا ہونے کی وجہ سے پہلے تو کوئی خاص توجہ نہ دی لیکن اسٹروکس کھیلنے شروع کیے تو بدزبانی جیسے روایتی ہتھکنڈوں پر اتر آئے،مصباح الحق نے صرف بیٹنگ پر توجہ دینے کیلیے کہا جس کے بعد کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پروٹیز اور سری لنکا کے خلاف میچز میں فارم، بنگلہ دیش کی کنڈیشنز اور اسپنرز کو دیکھتے ہوئے پاکستان سے ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن شپ میں اچھی کارکردگی کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔