بلدیہ ٹاؤن دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی تمام میتوں کی قائد آباد میں تدفین
6 سالہ بچہ فہد جاں بحق، ایک زخمی کی حالت تشویش ناک، جنازے اٹھنے پر علاقے میں کہرام مچ گیا، ہر آنکھ اشکبار
بلدیہ ٹاؤن دستی بم حملے میں زخمی 6 سالہ بچہ دم توڑ گیا جس کے بعد حملے میں جاں بحق افراد کی 13 ہوگئی، تمام میتوں کو قائد آباد شیرپائو کالونی میں سپرد خاک کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچ گوٹھ میں منی ٹرک پر دستی بم حملے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے آج ایک اور زخمی 6 سالہ بچہ فہد خان ولد شمشیر خان دم توڑ گیا جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی۔
بچہ این آئی سی ایچ جناح میں زیر علاج تھا، اسے سول اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد این آئی سی ایچ منتقل کیا گیا تھا۔ دھماکے کے 7 زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے ان میں سے ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے۔
واضح رہے کہ شمشیر خان کے دو بچے 13 سالہ سفیان خان، 11 سالہ حماد خان اور اہلیہ 50 سالہ سلیمہ بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، 40 سالہ خاتون صداقت زوجہ دلدار اور 11 سالہ سلمان ولد رحم دل بھی سول اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ ہوئے جاں بحق ہوئے۔
موقع پر جاں بحق ہونے والوں میں 25 سالہ خاتون نصرت بی بی دختر دلدار خان، 40 سالہ شرافت زوجہ معراج محمد خان، 45 سالہ شاہین بیگم زوجہ دلدار خان، 2 بھائی 12 سالہ عثمان خان اور 15 سالہ سلمان ولد رحم دل خان، 24 سالہ اقصیٰ دختر شیر علی، 2 بھائی 12 سالہ حماد اور 13 سالہ سفیان ولد شمشیر شامل ہیں۔
یہ پڑھیں : کراچی؛ منی ٹرک پر بم حملے میں 13 افراد جاں بحق
سول اسپتال میں زیر علاج افراد میں 25 سالہ سمیرا دختر فرمان، 35 سالہ وزارت زوجہ شاہد، 34 سالہ سکینہ زوجہ اظہار، 35 سالہ رخسانہ زوجہ عبد الرشید، 30 سالہ اقرا زوجہ شیر علی، 45 سالہ سفیہ اور ساجد شامل ہیں، ایک زخمی وینٹی لیٹر پر ہے جس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
تمام میتیں شیرپاؤ کالونی میں سپرد خاک
دریں اثنا دھماکے کے تمام جاں بحق افراد کی قائد آباد شیرپاؤ کالونی میں موجود اسٹار گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اش کبار تھی اور علاقے میں سوگ کی فضا قائم تھی۔
نماز جنازہ جماعت اسلامی کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پڑھائی، تمام افراد کی قبریں بھی مولا مدد قبرستان میں ایک ساتھ ہی بنائی گئیں۔ نماز جنازہ میں عزیز و اقارب، رشتے دار، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جنازے اٹھنے پر کہرام مچ گیا اور ہر شخص متاثرہ اہل خانہ کو دلاسہ دینے لگا، نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تمام افراد کی میتیں علاقے میں ہی قائم مولا مدد قبرستان لے جائی گئیں جہاں انھیں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔
نماز جنازہ و تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اسٹار گراؤنڈ اور قبرستان کے اطراف تعینات رہی۔