میں امریکا سے حسد کرتا ہوں اور یہ میرا حق ہے

وہ تمام امریکی جنہیں میں جانتا ہوں ان کے پاس محنت سے کام کرنے اور آزاد زندگی گزارنے کا بے حد جذبہ موجود ہے۔


اعزاز بخاری January 27, 2014
وہ تمام امریکی جنہیں میں جانتا ہوں ان کے پاس محنت سے کام کرنے اور آزاد زندگی گزارنے کا بے حد جذبہ موجود ہے۔

باہر بے حد سردی تھی، میرے پاس کوئی سواری نہیں تھی اور اس سرد شام میں مجھے پیدل چلتے ہوئے ہی اپنے گھر تک جانا تھا۔ تاہم اس وقت مجھے سردی سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ کچھ بھی نہیں کیا۔ میرا ذہن پریشان تھا اور ضمیر پرسکون نہیں تھا۔

اور یہ بات اس وقت سب سے اہم تھی۔

اس سے روز میں نے اپنے ہائی اسکول میں پاکستان کے بارے میں ایک پریزنٹیشن پیش کی تھی۔ امریکا میں ایک نوجوان سفیر کی حیثيت سے میری پریزنٹیشن اس بارے میں ہونا تھی کہ "پاکستان کیا تھا"۔ ایسے لوگ جن کے سامنے پاکستان کے صرف منفی پہلو کو پیش کیا جاتا رہا ہو، میری کوشش کا زیادہ جھکاؤ اس طرف تھا کہ پاکستان کتنا اچھا تھا۔

شاید، میں خود سخت حقائق کے اعتراف سے خوفزدہ تھا۔

میں نے اپنی پریزنٹیشن کا آغاز شہر کراچی سے کیا کہ اس کی بندرگاہ دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے لیکن میں نے باآسانی اس کڑوے سچ کو نظر انداز کردیا کہ کراچی میں جرائم کی شرح بھی پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

میں نے انہیں بتایا تھا کہ پاکستان وہ پہلی قوم تھی جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ ظاہر ہے میری ہمت نہ ہوئی کہ میں اس بات کا ذکر بھی اپنی پاور پوائنٹ کی سلائیڈز میں کروں کہ 1971 میں پاکستان ٹوٹ کر دو لخت ہو گیا تھا اور آج تمام اسلامی ممالک میں شراب نوشی کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔

میں نے اپنے حاظرین کو لاہور میں موجود شاندار بادشاہی مسجد کی تصاویر دیکھائیں، لیکن میں نے مسجد کے بالکل پیچھے واقع ہیرا منڈی کے بارے میں بات نہیں کی جہاں شہر کی جسم فروش خواتین رہائش پذیر ہیں۔

میں نے ہماری برطانوی راج سے آزادی کے بارے میں تبصرہ کیا لیکن میں نے اس حقیقت کو بتانے سے گریز کیا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہم اب بھی اپنے ذہنوں میں قید ہیں۔

یہاں تک کہ میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہم پاکستانی ہر وہ چیز جو پاکستان میں غلط ہورہی ہے اس کے لئے امریکا پر لعن تعن کرتے ہیں جب کہ ان کی امداد اور گرین کارڈز کو بکثرت قبول کرتے ہیں۔

لیکن اب جب پریزنٹیشن ختم ہوگئی تھی تو سکے کا سیاہ رخ چھپانے پر مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا اور پہلی بار میں نے اپنے آپ کو ان تمام چیزوں کے لئے ذمہ دار محسوس کیا جن سے پاکستان گزر رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس طاقت ہے اور شرم محسوس کی کہ میں نے کبھی تبدیلی لانے کی چھوٹی سی بھی کوشش نہیں کی۔

اس سرد رات جب میں چلتے ہوئے جارہا تھا تو میں نے ایک طاقتور پر احساس جرم محسوس کیا اور اچانک آنسوؤں کے بہتے ہوئے سیلاب میں میری بصیرت دندلاگئی۔

اس کے بعد سے میں نے محسوس کیا کہ میں بیدار ہوگیا ہوں۔

امریکا میں ہونے والے واقعات اور لوگ میرے لئے قابل تقلید بن گئے ہیں۔ میں ایمانداری کے اعلی درجے پر پہنچ گیا جو کہ ان لوگوں کی خصوصیت تھی۔ یہاں تک کہ معمولی چیزیں جیسے ایک خوشگوار مسکراہٹ جو لوگ میرے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے دیتے میرے دل میں ان کے احترام اور تعریف کو بڑھا دیتی۔

مزید براں، وہ تمام امریکی جنہیں میں جانتا ہوں ان کے پاس محنت سے کام کرنے اور آزاد زندگی گزارنے کا بے حد جذبہ موجود ہے۔ انہیں یہ معلوم ہے کہ تبدیلی لانے کے لئے انہیں اس تبدیلی کے عمل کو خود آگے بڑھانا ہو گا، وہ تبدیلی لاؤ اور وہ تبدیلی بنو۔

اور یہ درست ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے یہی کیا۔

میں نےغور کیا کہ ابتدائی عمر سے ہی انہیں سیکھایا گیا تھا کہ انہیں کچھ بھی آسانی سے نہیں ملے گا اور انہیں چمچ سے نہیں کھلایا جائے گا۔ انہیں اپنے تمام خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کام کرنا پڑے گا۔

میں نے دیکھا ہے کہ 8 یا 10 سال کی ابتدائی عمر سے ہی بچوں کو چھوٹے چھوٹے کام دیئے جاتے ہیں۔ وہ کچرا پھینکنے، صحن کی صفائی کرنے، میز لگانے اور برتن دھونے کی مشین سے برتن نکالنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے طور پر سب کچھ سیکھایا جاتا ہے کہ اپنی زندگی گزارنے کے لئے خود سب کچھ کریں اور کسی پر انحصار نہ کریں۔

ہمارے معاشرے میں موجود ضرورت سے زیادہ حفاظت کرنے والے والدین کو کبھی کبھی یہ سب شاید بہت سخت لگے، شاہد یہی سوچ ہے جو کہ ان میں خود پر انحصار کرنے والے بالغ اور ایک پھر ایک خود کفیل قوم کا رویہ پیدا کرتی ہے۔

یہ سچ بتایا جائے گا کہ میں امریکا کے لوگوں سے حسد کرتا ہوں اور ایسا کرنے کے لئے میرے پاس وجہ ہیں۔

نہیں، یہ سب کچھ لکھنے کا مطلب امریکا کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں ہے اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں اس ملک کو فرشتوں کی سرزمین کے طور پر پیش کروں۔ میرا یقین کریں اسی ایمانداری جس میں نے یہ تحریر کیا ہے میں ان چیزوں پر بھی ایک تحریر لکھ سکتا ہوں جنہیں میں امریکا کے حولے سے ناپسند کرتا ہوں۔ تاہم ایک نوجوان سفیر کے طور پر میرا کام اخلاقی اقدار اور مہارت کو انتا سمجنا تھا جتنا میں سمجھ سکتا تھا اور پھر انہیں پاکستان میں استعمال میں لانا تھا تاکہ یہ رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بن جائے۔

ایک نوجوان سفیر کی حیثیت سے میرے تجربے نے مجھے مزید روادار، معاملہ فہم اور پختہ بنا دیا۔ ستم طریفی یہ ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں رہائش پذیر ہو کر اسلام کے بارے میں بھی میری سوچ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل میں اس بات پر یقین کرتا تھا کہ دن میں پانچ مرتبہ خدا کے سامنے سجدہ کرنے کی ہر وقت سچ بولنے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت ہے۔ لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ سچ بولنا بھی عبادت ہے۔

اس ترقی کے مرحلے میں میں نے سیاست میں مستقبل بنانے کے بارے میں بھی سوچنا شروع کردیا۔

بیٹ مین کی طرح چوکس بننے کے بجائے سیاست ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے عوام اور ملک کو درپیش کرپشن اور امن و امان کے تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ بالآخر بے گھر کو گھر کی ، بھوکے کو روٹی کی ضرورت ہے اور اس سب سے نجات حاصل کرنے کے لئے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔

اور ابھی تک اس وقت کچھ اچھا کرنے کے بدلے میں اپنے ہاتھ گندے کرنے کے بارے میں خیال مجھے ڈراتا ہے۔ ابھی تک میں جتنا زیادہ اس بارے میں سوچتا ہوں اتنا زیادہ یہ محسوس کرتا ہوں کہ کسی تک بھی درست انداز میں رسائی کا عملی راستہ سیاست ہے۔

یہاں مجھے تعجب ہے کہ کیا سردی کی یہ چہل قدمی کبھی ختم ہوئی۔ شاید یہ میری بہتری کی جانب زندگی بھر کے سفر کا آغاز تھا۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 300 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔