دفتر خارجہ نے رنجیت سنگھ کے مجسمے پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا

بھارت کو اقلیتوں کے خلاف ریاست کی سرپرستی میں امتیازی پالیسیوں کو ترک کرنا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ


Staff Reporter August 18, 2021
بھارت کو اقلیتوں کے خلاف ریاست کی سرپرستی میں امتیازی پالیسیوں کو ترک کرنا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے رنجیت سنگھ کے مجسمے کے حوالے سے ایک واقعے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منافقانہ پالیسی ہے کہ جو ملک اپنی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے، وہ دوسروں کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ہم رنجیت سنگھ کے مجسمے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے غیرضروری اور بلاوجہ بیان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یہ منافقانہ پالیسی ہے جو ملک اپنی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے،وہ دوسروں کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔ ایک پختہ کار ریاست میں ملزم کی فوری گرفتاری کے بعد اس کے خلاف پہلے ہی سخت قانونی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑ دیا گیا، نوجوان گرفتار

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق دینے اور ان کی عبادت گاہوں کے لیے آئینی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔ بھارت کو دوسری جگہ پر اقلیتوں کے لیے تشویش ظاہر کرنے کے بجائے سنجیدگی سے خود اپنا جائزہ لینا چاہیے۔بھارت کو بی جے پی، آر ایس ایس حکومت اور اقلیت مخالف ذہنیت سے دور ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اقلیتوں کے خلاف ریاست کی سرپرستی میں امتیازی پالیسیوں کو ترک کرنا چاہیے ، اقلیتوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت ، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا چاہیے۔بھارت کو اقلیتوں کی عبادت گاہوں ، ثقافت اور ورثہ کے مقامات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔