بھارتی آبی جارحیت

بھارت آبی قوانین کونظر انداز کرتے ہوئے ایسے ڈیم بنا رہا ہے جس سے دریائوں کا بہائو پاکستان کی جانب نہ ہونے کے برابرہوگا


Editorial January 29, 2014
بھارت آبی قوانین کونظر انداز کرتے ہوئے ایسے ڈیم بنا رہا ہے جس سے دریائوں کا بہائو پاکستان کی جانب نہ ہونے کے برابرہوگا. فوٹو؛ فائل

KARACHI: پانی بقائے حیات ہے، آبی وسائل کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ کوئی بھی ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے، دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر آبی ذخیرے کم ہو رہے ہیں، دنیا کے تمام ممالک اپنے آبی ذخائر کو محفوظ ترین اور ان سے فوائد اٹھانے کی غرض سے ان گنت ڈیم بنا چکے ہیں اور بنا رہے ہیں۔ لیکن بھارت کی حکمت عملی اس سلسلے میں انتہائی جارحانہ ہے، وہ بین الاقوامی آبی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے دریائوں پر ایسے ڈیم بنا رہا ہے جس سے دریائوں کا بہائو پاکستان کی جانب نہ ہونے کے برابر ہو گا اور پاکستان کی زمینیں بنجر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، اس اہم مسئلے کی بازگشت منگل کو قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی، جس میں بھارت کی پاکستانی پانیوں پر ڈیم بنانے کی مذمت کی گئی۔ بھارت آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو بنجر کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں پانی پر جنگ ہو سکتی ہے۔ حکومت پانی کے مسئلے کو دہشت گردی کے مسئلے جیسی اہمیت دے کر آل پارٹیز کانفرنس بلائے۔

کشمیر پر قبضے کی سازش بھی بھارت کے عیار ذہن کی پیداوار تھی کیونکہ کشمیر کے سارے دریا پاکستان کی سمت بہتے ہیں ۔ پھر سندھ طاس معاہدہ ساٹھ کی دہائی میں ہوا۔ معاہدے کی رو سے تین دریا بھارت کو ملے، سارا پانی راجستھان میں نہروں کے ذریعے منتقل کر لیا گیا، پاکستان میں تین دریائوں کے اطراف آبادیاں اجڑ گئیں اور زمینیں بنجر ہو گئیں، غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ بھارت معاہدے کی شقیں نظر انداز کرتے ہوئے مزید بیس چھوٹے بڑے ڈیم چناب اور جہلم پر بنا رہا ہے، بگلیہار ڈیم کو عالمی عدالت انصاف نے بھی متنازعہ قرار دیا لیکن پاکستان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، آبی جارحیت کا یہی عمل جاری رہا تو اس مسئلے پر جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا، اس سارے عمل سے جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ بھارت سے کشمیر اور سرکریک کی طرح پانی کے معاملے پر ترجیحی بنیادوں پر بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے کیونکہ یہ ہمارے آنے والی نسلوں کی بقا کا معاملہ ہے۔ پاکستان کو بھی آبی ذخائر اور چھوٹے ڈیمز بنانے کے عمل کو تیز کرنا چاہیے۔ کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے پیدا کر کے ہم اپنے مسائل میں کمی لا سکتے ہیں۔