مہران ہائی وے سے کراچی کے صنعتی زونز کو فائدہ ہوگا وزیرا اعلیٰ سندھ

9کلومیٹرطویل ہائی وےکی تعمیرپر573.29 ملین روپے لاگت آئی،ہائی وے صنعتی زون کی ترقی میںکردار ادا کرتی رہے گی،کمشنرکراچی


Staff Reporter January 31, 2014
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ تختی کی نقاب کشائی کرکے مہران ہائی وے کا افتتاح کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاہے کہ مہران ہائی وے کی تعمیرسے کراچی کے صنعتی زونزاورملحقہ علاقوں کوفائدہ ہوگاجبکہ بندرگاہ کے راستے ہونے والی تجارت کیلیے بھی یہ شاہراہ نہایت اہمیت کی حامل ہوگی۔

یہ بات انھوں نے مہران ہائی وے فیزI اورفیزII کا افتتاح کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹررئوف اخترفاروقی،جاپانی سفارتخانے کے منسٹروڈپٹی چیف مشن Mr. Takashi Katae، میٹروپولیٹن کمشنرسمیع الدین صدیقی،ڈائریکٹرجنرل ٹیکنیکل سروسز نیازاحمدسومرو اوردیگر افسران بھی موجود تھے، وزیر اعلیٰ سندھ نے اس موقع پرمہران ہائی وے کی تختی کی نقاب کشائی کے بعدبطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کی تکمیل میں تعاون پرجاپانی حکومت کاشکریہ ادا کیااور کہا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان دوستی کامضبوط رشتہ قائم ہے نہ صر ف کراچی بلکہ دیگر شہروں میں بھی جاپان کے تعاون سے کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے اور کئی منصوبوں پرکام جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ مہران ہائی وے کے علاوہ کراچی میں سرکلرریلوے منصوبے پربھی جاپان کے تعاون سے کام ہو رہاہے اورہماری کوشش ہے کہ یہ منصوبہ بھی جلدازجلد مکمل ہو،3ہزار ایکڑسے زائد زمین بھی مختص کی گئی ہے جہاں جاپان کے تعاون سے ہیوی انڈسٹری لگائی جائے گی، امیدہے کہ آئندہ بھی ہمیں ترقیاتی منصوبوں میں جاپان کاتعاون حاصل رہے گااور پاکستان اورجاپان کی دوستی ہمیشہ برقرار رہے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی رئوف اختر فاروقی نے کہا کہ مہران ہائی وے جاپانی حکومت کے تعاون سے ملنے والا تحفہ ہے جس کی فنڈنگ جائیکا نے کی ہے اور9کلو میٹر طویل ہائی وے کی تعمیر پر 573.29 ملین روپے لاگت آئی ہے یہ ہائی وے کراچی کے صنعتی زون کی ترقی میں اہم کرداراداکرتی رہے گی، مہران ہائی وے جاپان اورپاکستان کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے کاایک اور ثبوت ہے اورہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہمیں اپنے ترقیاتی منصوبوں میں جاپانی حکومت اور جاپانی اداروں کاتکنیکی اور فنی تعاون حاصل رہے گا،کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظریہاں ٹرانسپورٹیشن کامسئلہ اہمیت اختیار کرگیاہے لہٰذا سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک کے دبائو سے نمٹنے کے لیے کراچی میں نئی سڑکوں کی تعمیراور موجودہ سڑکوں کو کشادہ کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

 photo 1_zps051436cc.jpg

مہران ہائی وے کے فیز II کا کام گزشتہ سال فروری میں شروع ہوا تھا اور ایک سال میں اسے مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ فیز I کا کام پہلے ہی مکمل ہوچکا تھا یہ تمام علاقہ انڈسٹریل زون ہے اورقبل ازیں یہاں بھینسوں کے باڑے اور دیگر تجاوزات قائم تھیں جنھیں ختم کرنے کے بعد اس ہائی وے کی تعمیر کا کام شروع کیا گیااب ہمیں اس ہائی وے کی مینٹی نینس بھی کرنی ہے تاکہ اسے بہترین حالت میں رکھا جاسکے ،تین لین کی یہ ہائی وے اسپتال چورنگی سے مین پورٹ قاسم روڈ تک 8.20 کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جن کی فنڈنگ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کی طرف سے ہوئی ہے،مہران ہائی وے دو ٹریکس پرمبنی ہے اورہرٹریک 36 فٹ چوڑاہے یہ سڑک نیشنل ہائی وے کابہترین متبادل ثابت ہوگی اور اس سے لانڈھی انڈسٹریل زون،ایکسپورٹ پروسسنگ زون،پورٹ قاسم اورراستے میں موجودمختلف ملٹی نیشنل صنعتی یونٹوںکوفائدہ پہنچے گا،اس منصوبے کی ایک اہم خاصیت 3.3کلو میٹر طویل آر سی سی اسٹورم ڈرینج سسٹم کی تنصیب ہے جبکہ ہائی وے کے ساتھ ساتھ بجلی کے پولز پر ایل ای ڈی لائٹس لگائی گئی ہیں،برساتی پانی کی نکاسی کیلئے آرسی سی ڈرین اور سکھن نالے پر پل کی توسیع کاکام بھی انجام دیا گیا ہے۔

دریں اثناسندھ حکومت کے تمام محکموں کے سیکریٹریز کے ایک اہم اجلاس کی صدارت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے تمام صوبائی سیکریٹریز کوہدایت دیںکہ وہ ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کریں اوراسے سالانہ مختص کیے گئے رقم کے مکمل استعمال اورمعیاری کام کے ساتھ مقررہ مدت کے اندر مکمل کریں۔انھوں نے تمام سیکریٹریزکوہدایات دیں کہ وہ اپنے محکمے میں خالی آسامیوں کی رپورٹ ایک ہفتے کے اندران کو جمع کروائیں،محکمہ تعلیم اور بلدیات میں منظور شدہ ایس این ای سے زیادہ تقرریوں کا معاملہ صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائیگا ،وہاں کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائیگا،جس کیلیے متعلقہ محکمے حقائق پر مبنی رپورٹ تیار کریں۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ صوبائی محکموں کی بہترکارکردگی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلیے منظور شدہ آسامیوں پر قابل اور محنتی ملازمین کا ہونا ضروری ہے،گریڈ 16اور اس سے اوپر کی آسامیوں کوپبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کیا جائیگا جبکہ گریڈ 1سے 15تک رکروٹمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے میرٹ کے اصول کے تحت بیروزگاروں کوروزگار فراہم کیا جائیگا۔