پریذیڈنٹ ون ڈے کپ نیشنل بینک اور کے آر ایل مشترکہ چیمپئن بن گئے

15لاکھ روپےکی انعامی رقم دونوں ٹیموں میں تقسیم، کھلاڑی کنڈیشنز موزوں نہ ہونے کے باوجود میچ لاہور میں ہی کرانے پر حیران


Sports Reporter February 02, 2014
لاہور : پریذیڈنٹ ون ڈے کپ کی مشترکہ فاتح قرار پانے والی نیشنل بینک اور خان ریسرچ لیبارٹریز کی ٹیموں کاپی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے ہمراہ گروپ فوٹو، موسم کے سبب فائنل بے نتیجہ رہا۔ فوٹو: پی سی بی

پریذیڈنٹ کپ ون ڈے ٹرافی ٹورنامنٹ کا فائنل خراب موسم کی نذر ہونے کے بعد نیشنل بینک اور کے آر ایل کو مشترکہ چیمپئن شپ قرار دیدیا گیا،15لاکھ روپے کی انعامی رقم دونوں ٹیموں میں مساوی تقسیم کردی گئی۔

کھلاڑیوں نے کنڈیشنز کرکٹ کیلیے موزوں نہ ہونے کے باوجود فیصلہ کن میچ لاہور میں ہی کرانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہفتے کو شیڈول کیا گیا تھا لیکن شدید دھند کے باعث 4گھنٹے تک کھیل شروع نہ ہوسکا،بالآخر فیلڈ امپائرز نے مقابلہ 20، 20اوورز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا، نیشنل بینک نے اننگز کا آغاز کرتے ہوئے11.4 اوورز میں5وکٹ پر 59 رنز بناکر شکست کو آواز دیدی تھی کہ خراب روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا، گیلی پچ پر کامران اکمل صرف ایک اور صہیب مقصود 4رنز پر پھسل گئے، محمد نواز ایک رن بناکر چلتے بنے،رواں سیزن کے دوران ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے والے فواد عالم کی اننگز3 رنز تک محدود رہی، عمر وحید کو کھاتہ کھولنے کا موقع بھی نہ مل سکا،آئوٹ ہونے والا کوئی بیٹسمین ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکا، ناصر جمشید نے خراب کنڈیشنز اور حریف بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے 34گیندوں پر 32رنز بنائے،کھیل روکے جانے کے باعث ان کو بھی مزید بیٹنگ کا موقع نہ مل سکا،اوپنر کے ساتھ حماد اعظم 2رنز پر ناٹ آئوٹ رہے۔

 photo 7_zpsbc07d2ee.jpg

عمید آصف 2 جبکہ محمد عرفان، زین عباس اور نیئر عباس ایک ایک شکار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بے نتیجہ میچ کے بعد نیشنل بینک اور کے آر ایل کو مشترکہ چیمپئن قرار دیدیا گیا،اختتامی تقریب میں15لاکھ روپے کی انعامی رقم دونوں ٹیموں میں مساوی تقسیم کردی گئی،ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین فواد عالم(435رنز)، بولر احسان عادل(24وکٹیں) اور آل رائونڈر سعید انور جونیئر(306رنز اور13وکٹیں) قرار پائے، انھین50،50ہزار کے انفرادی انعامات ملے۔ دریں اثنا کرکٹرز نے قومی ایونٹ کا فیصلہ کن معرکہ خراب موسم کے باوجود لاہور میں ہی کرانے پر حیرت اور عدم اطمینان کا اظہار کیا،کے آر ایل کے ایک کھلاڑی نے کہا کہ کرکٹ کیلیے غیر موزوں کنڈیشنز میں اہم مقابلہ منعقد کیے جانے سے بد مزگی پیدا ہوگئی، میچ کیلیے کراچی یا ملتان میں حالات انتہائی سازگار تھے، وہاں کی پچز اور آئوٹ فیلڈ بھی ون ڈے کرکٹ کیلیے موزوں تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ایونٹ کے دوران شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ہم ٹائٹل کیلیے فیورٹ تھے لیکن فائنل مکمل نہ ہونے پر سخت مایوسی ہوئی، کھلاڑیوں نے کہاکہ بورڈ حکام ایسی صورتحال کا پہلے سے اندازہ کرتے ہوئے متبادل انتظامات پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا، چیمپئن بننے تک کا سفر آسان نہیں ہوتا،منزل کے قریب پہنچ کر کامیاب نہ ہوسکیں تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ پی سی بی میں ڈومیسٹک کرکٹ سے وابستہ حکام کو بڑے ایونٹس کے فائنل میچ کیلیے متبادل دن بھی رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف نیشنل بینک کے کھلاڑیوں نے کہا کہ موسم کی خرابی کے باعث قذافی سٹیڈیم کی پچ ڈرائونا خواب ثابت ہوئی، محمد عرفان جیسے طویل قامت پیسر کا سامنا کرنا عام حالات میں بھی آسان نہیں ہوتا لیکن سر پر بادل اور پچ نرم اور گیلی ہو تو بیٹسمین کیا کرسکتا ہے، ہر پلیئر سوچ رہا ہے کہ فائنل ملتوی کرکے کسی اور دن منعقد جاتا یا پھر کسی اور شہر میں کرانے کا فیصلہ کرلیتے تو بہتر ہوتا،ٹائٹل کے قریب پہنچنے والی ہر ٹیم بہترین کارکردگی دکھانا چاہتی ہے لیکن کرکٹ کیلیے موزوں کنڈیشنز بھی نہایت ضروری ہیں۔