محکمہ جیل پنجاب کے ملازمین کے سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کا فیصلہ

پنجاب کی جیلوں کے لئے 1037 اہلکاروں کی بھرتی کا مرحلہ وار آغاز


ویب ڈیسک October 06, 2021
وزیر اعلی کی پریزن پیکیج کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت فوٹو: فائل

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں اجلاس کے دوران جیل ملازمین کے سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت جیل نظام میں اصلاحات کے لئے اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء راجہ بشارت، فیاض الحسن چوہان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلی، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں شرکا کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے دورے کے بعد ملتان جیل میں خراب پنکھے تبدیل کردیئے گئے، جیل میں واٹر کولر نصب،واش روم اورکچن کی تعمیر ومرمت کردی گئی، ڈیرہ غازی خان جیل میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پرپنکھے اور ایگزاسٹ نصب کردیئے گئے، جیل میں 85 بیت الخلا کی تعمیر ومرمت کی گئی، سیالکوٹ جیل میں وزیراعلیٰ کے دورے کے بعد 100 پنکھے لگا دیئے گئے ہیں۔ قیدیوں کی 489 شکایات پر کارروائی عمل میں لائی گئی، جیلوں کی ویڈیو مانیٹرنگ سے خلاف ضابطہ عمل پر 705 انکوائریاں کی گئیں۔ پنجاب کی 21 جیلوں میں پی ایم آئی ایس رائج کردیاگیا جب کہ 22 جیلوں میں جلد پی آئی ایم ایس رائج کردیا جائے گا۔

دوران بریفنگ بتایا گیا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر جیلوں کے لئے 1037 اہلکاروں کی بھرتی کا آغاز کردیا گیا ہے، وزیر اعلی نے محکمہ جیل خانہ جات میں 44 ماہر نفسیات کی بھرتی مکمل ہونے پر اظہار اطمینان کیا۔

اجلاس کے دوران جیل ملازمین کے سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، وزیر اعلی نے پریزن پیکیج کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو معیاری کھانا فراہم کرنے کے لئے درکار بجٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ قیدیوں پر تشدد اورغیر انسانی سلوک کے خاتمے کیلئے قابل عمل سفارشات مرتب کی جائیں۔

وزیر اعلی عثمان بزدار نے متعلقہ حکام کو جیلوں میں کیبل نیٹ ورکنگ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ قیدی سرکاری نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینل دیکھ سکیں۔