بلوچستان پر سپریم کورٹ بار کا اعلامیہ

ضروری ہے کہ قوم پرستوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے پر تیار کیا جائے


Editorial September 10, 2012
سپریم کورٹ بار کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور صوبے میں اختلافات کی خلیج کو کم کرنے کے لیے آیندہ شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

بلوچستان کے حالات تمام تر حکومتی دعووں اور یقین دہانیوں کے باوجود خاصے عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں۔

اسی مسئلے کی شدت کا صریح ادراک کرتے ہوئے اور اس کے بہتر حل کی تلاش کے لیے کوئٹہ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام قومی کانفرنس ''بلوچستان کا مسئلہ' اس کا حل اور پیشرفت'' کا انعقاد کیا گیا جس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کیا جائے' مسئلہ کے حل کے لیے خود مختار کمیشن بنایا جائے، آیندہ انتخابات کو شفاف بنائے بغیر مرکز اور صوبے کے مابین خلیج کو کم نہیں کیا جا سکتا' ریاستی اداروں کی انتخابات میں مداخلت تشدد کو فروغ اور مسئلے کو مزید الجھا دے گی۔

بلوچستان کے حالات ایک طویل عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں، ہر حکومت نے بلوچستان کے مسئلے کی نشاندہی تو کی مگر اس کے حل کی جانب کوئی ٹھوس اور قابل قبول لائحہ عمل کے بجائے محض نعروں' دعوئوں اور ڈنگ ٹپائو پالیسیوں ہی پر اکتفا کیا ۔ نتیجتاً آج بلوچستان بدامنی کی آگ میں بری طرح جھلس رہا ہے جس کی تپش نے محب وطن اور سنجیدہ طبقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صوبے میں اغوا برائے تاوان' ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتیں عام ہیں۔بہت سے نوجوانوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے، فرقہ واریت بھی عروج پر ہے۔یوں دیکھا جائے تو بلوچستان میں انتشار اور انارکی کا عالم ہے۔

صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہے کہ وہ اس قدر وسیع پیمانے پر ہونے والی بدامنی کا مقابلہ کرسکے۔وفاقی حکومت نے جو منصوبے بنائے یا شروع کیے ، وہ بھی بے اثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔پاکستان کا مستقبل اس صوبے سے ہی وابستہ ہے۔ یہاں کے وسائل کو استعمال میں لا کر نہ صرف صوبہ بلکہ پورا ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے اور بلوچوں کی غربت اور افلاس ماضی کا قصہ بن سکتی ہے مگر بلوچستان کی سیاسی محرومی دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ ماہ بھی بلوچستان کے مسئلے کے حل کے حوالے سے وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے صوبے کی مختلف سیاسی' قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے ملاقاتیں کی تھیں اور دعویٰ کیا گیا کہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے آیندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

ادھر معاملہ یہ ہے کہ کمیٹیاں تو بنا دی جاتی ہیں' سفارشات بھی مرتب کی جاتی ہیں مگر ان پر سنجیدگی اور خلوص نیت سے عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے نفرت کی آگ مزید بھڑک اٹھتی ہے، یہی سبب ہے کہ مرکز اور صوبے میں اختلافات کی خلیج گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اسی خلیج کو پاٹنے کے لیے سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے عندیہ دے دیا کہ ڈیرہ بگٹی کا مسئلہ حل ہونے تک بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ برقرار رہے گا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے اعلامیے میں ایک نکتہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مرکز اور صوبے میں اختلافات کی خلیج کو کم کرنے کے لیے آیندہ شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے اور انتخابات میں ریاستی اداروں کی مداخلت کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ بار کا یہ مطالبہ درست ہے، عام انتخابات میں کسی گروپ کو ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔اگر نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ ادھر بلوچستان کے مسئلے کے حل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں آپس کے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد و یک جہتی کا مظاہرہ کریں۔

سیاست اپنی جگہ لیکن بلوچستان سب کا مسئلہ ہونا چاہیے۔گزشتہ عام انتخابات کا قوم پرستوں نے بائیکاٹ کیا جس سے حالات میں خرابی نے جنم لیا۔ اب ضروری ہے کہ قوم پرستوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے پر تیار کیا جائے ، اس سے گلے شکوے بھی دور ہوں گے اور جو اسمبلی وجود میں آئے وہ بلوچستان کے حقیقی نمایندوں پر مشتمل ہوگی ۔ سپریم کورٹ بار کے اعلامیے میں چھپے اس پیغام سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہیے کہ اگر انتخابات شفاف نہ ہوئے اور ریاستی اداروں کی مداخلت جاری رہی تو صوبے میں تشدد بڑھے گا' صوبے اور مرکز کے درمیان مزید خلا پیدا ہو گا جو ملکی سالمیت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی بند ہونی چاہیے کیونکہ بلوچوں کو اسی نکتے پر سب سے زیادہ اعتراض ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ نواب بگٹی کا قتل بھی بلوچوں کے سینے پر ایک زخم ہے جس پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ علیحدگی پسندوں کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، ان کے مطالبات کو ہمدردی کے جذبے کے تحت سنا جائے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ، ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔ دہشت گردی کے واقعات' بارودی سرنگوں کے دھماکوں' چیک پوسٹوں پر حملوں اور لیویز اہلکاروں کی ہلاکتوں سے بلوچستان لہو لہو ہے۔

اس بہتے لہو کو روکنے کے لیے اب وہ وقت آ چکا ہے کہ حکومت، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں اور وہاں امن کے لیے حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ سب سے زیادہ ذمے داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ محض زبانی دعوے کرنے کے بجائے مسئلے کے حل کی جانب سنجیدگی سے پیشرفت کرے ۔ ادھر ناراض بلوچ قیادت کو بھی حالات کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے، بلوچستان میں گڑبڑ کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد، فرقہ پرست، جرائم پیشہ گینگ اور غیرملکی مداخلت کار پاکستان کو کمزور کرنے کے مشن پر ہیں۔

وہ ریاستی اداروں اور بلوچوں کے مابین غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں، یہ انتہائی خطرناک چال ہے، جسے پاکستان کی حکومت ، سیاسی جماعتوں ، مذہبی رہنمائوں اور بلوچ قیادت کو سمجھنا چاہیے۔ اگر اب بھی غفلت اور نظراندازی کی پالیسی کا تسلسل جاری رہا تو بلوچستان کا مسئلہ شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے جس سے قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے قابو میں نہ آنے والے واقعات شروع ہو سکتے ہیں۔