بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں

سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں طوفانی بارشوں کے بعد اکثر علاقوں میں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی


Editorial September 10, 2012
طوفانی اور موسلا دھار بارشوں کے باعث 73 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جب کہ کئی ہزارمکانات اور دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستانی قوم ابھی تک گزشتہ سال آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کی تلخ یادوں کو بھلا نہ سکی تھی کہ ایک بار پھر مون سون بارشوں کے تسلسل سے ملک میں جاری رہنے کے بعد سیلاب کا خطرہ سراٹھا رہا ہے۔

ابھی تو پچھلے سیلاب زدگان اپنے گھروں میں مکمل طور پر آباد نہ ہوئے تھے اور نہ ان کے زخم مندمل ہوسکے تھے کہ ایک بار پھر ایک آزمائش وکرب اور کٹھن حالات کا مقابلہ کرنا پڑے گا ، ناقص منصوبہ بندی اور ملک میں کالاباغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی عدم تعمیر کے باعث لاکھوں کیوسک پانی بستیوں کو برباد کرنے کے بعد سمندر میں جا گرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک میں توانائی کا بحران ایک عفریت کی طرح سر اٹھا چکا ہے ۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق طوفانی اور موسلا دھار بارشوں کے باعث 73 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جب کہ کئی ہزارمکانات اور دکانیں متاثر ہوئی ہیں ۔سیلابی ریلے کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ریلوے حکام نے بزنس ٹرین سمیت مین اور برانچ لائنوں پر چلنے والی ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔دیہاتی علاقوں میں ہونے والی تباہ کاریاں اپنی جگہ کراچی میں بارش کے بعد سڑکوں کا زیرآب آنا ،بجلی غائب ہوجانا اور گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنس جانا جیسے مسائل نے اداروں کی قلعی کھول دی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک آرمی کی جانب سے بھاری مشینری سمیت 60 انجینئرز اور جوانوں کو روانہ کردیا گیا ہے۔ جو ڈی جی خان کینال میں پڑنے والے شگاف کی مرمت میں کام آئے گی ۔سندھ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں طوفانی بارشوں کے بعد اکثر علاقوں میں خوراک اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ بلوچستان کے اضلاع نصیر آباد،جعفرآباد، جھل مگسی ،سبی اور بولان میں وسیع رقبہ زیرآب آجانے سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں ۔

سندھ کے شہرجیکب آباد میں بارش کا سو سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 380 ملی میٹر بارش ہوئی۔حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں پانچویں روز بھی وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش ہوئی،جس سے نشیبی علاقوں کی حالت مزید ابتر ہوگئی، کرنٹ لگنے، آسمانی بجلی ،دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں 8افراد جاں بحق ہوگئے ۔بجلی کی طویل بندش پر شہری گھروں سے نکل آئے اور احتجاج کیا ،اس دوران مشتعل افراد نے حیسکو کے دفتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور ریکارڈ کو آگ لگا دی، شہر میں صورتحال خراب ہونے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی،جب کہ پانچ سو ایکڑ اراضی پہ کاشت کی گئی دھان اور کپاس کی فصلیں بھی مکمل طور پر پانی بُرد ہو گئی ۔

سکھر سمیت بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش نے نظام زندگی مفلوج کردیا،گنجان آبادعلاقوں اور شاہراہوں پرکئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، بجلی کی بندش کے نتیجے میں ڈرینج اسٹیشن پر نصب موٹریں نہ چل سکیں اور کئی فٹ جمع رہنے والے پانی کے سبب لوگ گھروں میں محصور ہوگئے جب کہ تجارتی مراکز و شاہراہوں پر سیکڑوں گاڑیاں پانی میں پھنس کر بند ہوگئیں، لوگ دشوار کن صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے پیدل گھروں کی جانب روانہ ہوئے تاہم شہریوں کی ایک بڑی تعداد رات بھر راستے میں پھنسی رہی۔جوں جوں دریائوں میں پانی کا دبائو بڑھتا جارہا ہے،سیلاب کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں ارباب اختیار کو چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ مزید جانی ومالی نقصان سے بچا جاسکے۔