مندر میں غلطی سے داخل ہونے پر مسلم لڑکے پر بہیمانہ تشدد

10 سالہ مسلم لڑکے کو تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کردیا گیا


ویب ڈیسک October 12, 2021
اس سے پہلے بھی مندر سے پانی پینے پر مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا گیا تھا، فوٹو: فائل

بھارت میں پنڈت اور اس کے حواریوں نے 10 سالہ مسلم لڑکے کو داسنا دیوی مندر میں غلطی سے داخل ہونے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر پولیس کے حوالے کردیا۔

مسلمانوں کے خلاف ہمہ وقت زہر اگلنے والے پجاری نرسنگھانند نے غلطی سے مندر میں داخل ہونے پر مسلمان لڑکے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا۔

پنڈت کے تشدد سے 10 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوگیا جسے سفاک انتہا پسند ہندوؤں نے طبی امداد بھی فراہم نہیں ہونے دی۔ سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کی وجہ سے پولیس حرکت میں آئی اور پنڈت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے عوامی دباؤ پر پنڈت کے خلاف مقدمہ تو درج کرلیا لیکن تاحال اسے گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پنڈت نرسنگھانند ہی وہی بدخت پجاری ہے جس نے دہلی میں ہونے والے ایک سیمینار میں پیغمبر اسلام کی گستاخی کی تھی جس پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔

مسلم وکلا کا کہنا ہے کہ اگر نفرت آمیز اسلام مخالف بیانات پر پہلے سے دائر مقدمات میں مذکورہ پنڈت کو گرفتار کرلیا جاتا تو آج یہ واقعہ پیش نہ آتا۔

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل قبل 14 سالہ مسلمان لڑکے کو مندر سے پانی پینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔