سپریم کورٹ کا بلدیاتی حکومتوں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت اور سرکاری حکام کے جمع کرائے گئے تحریری جوابات طلب


ویب ڈیسک October 20, 2021
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت اور سرکاری حکام کے جمع کرائے گئے تحریری جوابات طلب

سپریم کورٹ نے لوکل گورنمنٹس کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

سپریم کورٹ میں بلدیاتی اداروں کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے لوکل گورنمنٹس کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے حکم ناموں کی مصدقہ نقول طلب کر لیں اور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت اور سرکاری حکام کے جمع تحریری جوابات بھی طلب کرلیے۔


عدالت عظمیٰ نے چیف سیکرٹری پنجاب، سابق چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کی پنجاب حکومت کو بلدیاتی اداروں کی بحالی کیلئے 20 اکتوبر تک مہلت

سپریم کورٹ کے باہر میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نمائندگان نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، سپریم کورٹ نے آج تاریخی حکم دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کی بحالی سے انکار کیا تھا اور چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، ہم چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر کے باہر بیٹھے رہے مگر انھوں نے ملاقات نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی پنجاب نے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کی منظوری دے دی

میئر راولپنڈی سردار نسیم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ہمارے فنڈز ایم این ایز اور ایم پی ایز کو دیئے، بلدیاتی اداروں کو بحال نہ کرنے کے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب ہیں، کیونکہ مسلم لیگ ن سمیت مختلف جماعتوں سے بلدیاتی نمائندگان منتخب ہوئے تھے۔