19 کروڑ درخت لگ جائیں تو پورا خیبر پختونخوا ہرا بھرا ہو جائے سپریم کورٹ

بیج پھینک کر سارا کام اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ


ویب ڈیسک November 03, 2021
بیج پھینک کر سارا کام اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 19 کروڑ درخت لگ جائیں تو پورا خیبر پختونخوا ہرا بھرا ہو جائے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سیکرٹری جنگلات خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر سپریم کورٹ کی جانب سے شدید اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ سیکرٹری جنگلات کے وارنٹ جاری کئے جائیں،

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز بن گئے ہیں، نیشنل پارک میں درخت کاٹ کر تعمیرات کی جا رہی ہیں، کمراٹ، سوات اور نتھیا گلی میں درخت کٹ چکے ہیں، جو پہاڑ الاٹ کر چکے ہیں ان کا کیا کریں گے، محکمہ جنگلات کا ٹمبر کا کاروبار چل رہا ہے، گھروں میں ڈلیوری پہنچ جاتی ہے۔

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 19 کروڑ درخت لگ چکے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے 10 بلین سونامی منصوبے کی تفصیلات مانگی تھیں، ریکارڈ مانگنے کی وجہ یہی تھی کہ دیکھا جائے درخت کاغذوں میں تو نہیں لگے، 19 کروڑ درخت لگ جائیں تو پورا خیبر پختونخوا ہرا بھرا ہو جائے، خیبر پختونخوا میں تو جنگلات ہی جنگلات ہونے چاہییں، 19 کروڑ درختوں کے لئے پودے کہاں سے لیے؟ بیج پھینک کر سارا کام اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، پورے ملک کی طرح بیج بھی اللّٰہ کے ہی حوالے ہیں۔

عدالت کے استفسار پر سیکریٹری جنگلات سندھ نے بتایا کہ سندھ میں 27 لاکھ ایکڑ اراضی پر جنگلات ہیں، 10 بلین سونامی میں سے سندھ میں 3 ارب درخت لگائے جا رہے ہیں، سندھ میں 57 کروڑ درخت لگائے جاچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے نہیں لگتا سندھ حکومت نے درخت لگانے پر کوئی پیسہ خرچہ کیا ہے، اگر درختوں پر 2 ہزار 323 ملین روپے خرچ کیے گئے ہوتے تو پورا سندھ ہرا بھرا ہو چکا ہوتا، سندھ میں جو پودا لگتا ہے وہ بکری کھا جاتی ہے، کراچی سے ٹھٹہ جائیں، تمام جنگلات کی زمین پر تجاوزات ہیں، سندھ میں تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگلات اگائیں۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت میں تمام سیکریٹریز جنگلات کو ذاتی حثیت میں طلب کر لیا، جب کہ تمام صوبائی سیکریٹریز جنگلات کو ایک ماہ میں شجرکاری منصوبوں سے متعلق رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔