سندھ سول سرونٹس آرڈیننس 2012کیخلاف دائر درخواست پر نوٹس جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکیخلاف دائر درخواست پر وزارت پٹرولیم، وزارت قانون اور اوگرا سمیت دیگر سے جواب طلب۔


Staff Reporter September 11, 2012
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف دائر درخواست پر وزارت پٹرولیم ، وزارت قانون اور اوگرا) سمیت دیگر سے جواب طلب۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر اور جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گورنر سندھ کے جاری کردہ سندھ سول سرونٹس آرڈیننس 2012کیخلاف دائر درخواست پر گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری، اسپیکر سندھ اسمبلی، صوبائی وزارت قانون اور چیف سیکریٹری سندھ کو نوٹس جاری کردیے۔

یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں گورنر سندھ، چیف سیکریٹری، اسپیکرسندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر قانون کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گورنر سندھ کی جانب سے جاری آرڈیننس میں شق9-Bکا اضافہ کردیاگیا ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ سندھ کو آئوٹ آف ٹرن ترقیوں، ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں اور کنٹریکٹ پر تقرریوں کا اختیار دے دیا گیا ہے جس سے کنٹریکٹ پر تقرر ہونے والے اور ڈیپوٹیشن اور آئوٹ آف ٹرن ترقی حاصل کرنے والے افسران کو بھی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔

وزیراعلیٰ کو یہ بھی اختیار دے دیا گیا ہے کہ کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کو اس کی مہارت کی بنیاد پر دوبارہ تعینات کرسکتے ہیں جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں سینیارٹی،آئوٹ آف ٹرن ترقیوں کیخلاف مختلف درخواستیں زیرسماعت ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقیاں حاصل کرنے والے56افسران کو تنزلی سے بچانے کیلیے مذکورہ آرڈیننس جاری کیاگیا ہے جس کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں اس لیے اس آرڈیننس کو کالعدم قراردیا جائے۔