ظلم بند نہ ہوا اور کچھ مہاجر باغی بن گئے تو میری ذمے داری نہیں الطاف حسین

فوج کو پھر ہمارے خلاف استعمال کرنیکی سازش ہورہی ہے،ہم غیرملکی ایجنٹ نہیں،میں جنگ کی بات کرنے والاآخری شخص ہوں گا


Staff Reporter February 10, 2014
تحفظ پاکستان آرڈیننس جبرکاقانون ہے،فہدعزیزکے بارے میں شاہد حیات جھوٹ بول رہے ہیں،وزیراعلیٰ ان کامعائنہ کرائیں۔ فوٹو: فائل

فیصل آباد: متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں اور مہاجروں کاماورائے عدالت قتل کیاجا رہاہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام اس ظلم وبربریت کانوٹس لیں اورہمیں انصاف فراہم کریں،ایک مرتبہ پھرفوج کوایم کیوایم کے خلاف استعمال کرنے کی سازش کی جارہی ہے، اس میں وفاقی حکومت ملوث ہے یا کوئی بھی ادارہ اس کی تحقیقات کرانا چیف آف آرمی اسٹاف کافرض ہے،ایم کیو ایم اورمہاجر قوم برطانوی،امریکی یابھارتی ایجنٹ نہیں وہ پاکستانی ایجنٹ ہیں اور اس ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں، میں نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، اگر ظلم وبربریت کا سلسلہ بند نہ ہوا اور مہاجرقوم میرے ہاتھ سے نکل گئی اورکچھ مہاجرباغی بن گئے تو پھر اس کی ذمے داری مجھ پرنہیں،اس کھیل کی سازش کرنے والوں پرعائدہوگی،میں جنگ کی بات کرنے والا آخری شخص ہوں گا،تحفظ پاکستان آرڈیننس آمریت اور جبرکاقانون ہے، ایم کیو ایم اس کی مخالفت کرتی ہے، ماضی میں نوازشریف نے خصوصی عدالتیں بنائی تھیں،جس کاوہ خود شکار ہوئے،اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ اس قانون کاخود شکار ہوجائیں۔

چوہدری نثار آپ نے اب تک مانیٹرنگ کمیٹی کیوں نہیں بنا ئی ؟اگر بنا دیتے تو ایم کیوایم کے اتنے ساتھی حراست کے دوران شہیدنہیں ہوتے۔نائن زیرو پرلندن سے بذریعہ فون پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بظاہر آج کی یہ ہنگامی پریس کانفرنس اس لیے بلائی گئی ہے کہ آپ صحافیوں کے توسط سے ارباب اختیار و اقتدار ، ملک بھر کے عوام کو ، پولیس رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکنوں کے باالخصوص اور مہاجر نوجوانوں اور عوام کے خلاف بالعموم جو بلاجوازگرفتاریوں ، حراست کے بعد ان پر تھرڈ ڈگری ، زمانہ جہالیت کے دور سے بھی بد تر تشدد کا نشانہ بنا کرانھیں معذور اور زخمی بھی نہیں بلکہ شہید کیا جارہا ہے، انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے والے ،ماورائے عدالت قتل کے مسلسل واقعات اورصوبہ سندھ میں مہاجروں کے ساتھ روارکھے جانے والے درد ناک، المناک اورانتہائی متعصبانہ سلوک سے آگاہ کرناہے۔

 photo 3_zpsb977d424.jpg

آج میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کو خصوصی طور پر مخاطب کررہا ہوں اور ان سے میں انصاف کی ، مداخلت کی، ظلم وبربریت بند کرانے کی درخواست کرنا چاہتا ہوں، بہت سے لوگ اس پر یہ کہیں گے کہ جمہوری حکومت ہوتے ہوئے وفاقی سطح پر اور صوبائی سطح پرآرمی کو مداخلت یا مدد کی درخواست کرنا ایک غیر جمہوری طرز عمل ہے مجھے اس الزام کی قطعی پرواہ اس لیے نہیں ہے کہ ایم کیوایم اور مہاجر عوام کے ساتھ جو قتل و غارتگری کاسلسلہ ریاستی ادارے خواں وہ پولیس ہوں، قانوں نافذکرنے والے اداروں کے لوگ ہیں جس طرح گرفتاری کے بعد تشدد کرکے زخمی کررہے ہیں،تھرڈ ڈگری ٹارچرکا نشانہ بنا رہے ہیں وہ کونساجمہوری آئینی ، انسانی اخلاق طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے، یہ عمل ایک آمرانہ طرز عمل سے بد ترہے ، جمہوری حکومت کے دور میں یہ کیاجارہاہے ،ہر انسان کے برداشت کی ایک حدہوتی ہے ، اسی طرح ہر طبقہ آبادی اگر اجتماعی طور پرٹارگٹ اسٹیٹ کے ہاتھوں بنائی جائے ارباب اختیار و اقتدار کے ہاتھوں بنائی جائیں تو وہ طبقہ آبادی برداشت کرتاہے ، صبر کرتا ہے بالآخر پھر سوچنے پر مجبور ہوتاہے ، آواز احتجاج بلند کرتا ہے، مطالبات کرتا ہے اور ملک کے کرتادھرتا بااثر افراد سے مدد کی اپیل کرتاہے۔

جنرل راحیل شریف میں خدا،رسول اور پاکستان کی سلامتی کا آپ کوواسطہ دیتا ہوں کہ آپ یہ معلوم کریں کہ رینجرز کی حراست میں جو ایم کیوایم کے لوگ لاپتہ کیے گئے ،شہید کیے گئے وہ کیوں کیے گئے ؟،دوسرے چوہدری نثار سے پوچھا جائے کہ کپتان آپ نے سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کوبنایاجنھوں نے ایسے لوگوں کو پولیس کے اندر بھرتی کرایا کہ جو 93ء جب پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تھی تواس نے گلی گلی ماوارئے عدالت قتل عام کرایا تھامیں نے یہ گناہ کیاکہ صدر زرداری کوجوسابق صدر ہیں ان کو صدارت کیلیے پرپوز کیا ، میں نے بھائی بھتیجے کا خون معاف کیا ،میں نے کہاکہ آئو دیہی شہری کی تفریق مٹانے ،سندھ میں محبت یجہتی پیدا کرنے کیلیے مل کر کام کریں لیکن آج مہاجر کا لفظ مجبوراً اس لیے استعمال کررہاہوں کہ سندھی کہنے کے باوجود ہمیں سندھی سجھاہی نہیں جاتا،مہاجروں کا کیا قصور ہے ؟۔

الطاف حسین نے کہاکہ میں نے 5 سال تک آصف زرداری کا دفاع کیا، پیپلزپارٹی کے لوگ زرداری کادفاع کرنے کیلیے ٹاک شو زمیں نہیں آتے تھے میں واحد آدمی تھا جس نے آصف زرداری کا ساتھ دیا، میں متعدد بار آصف زرداری کوفون کرچکا ہوں بلاول ہائوس رحمٰن ملک کے توسط سے بیان دے چکاہوں لیکن کبھی زرداری صاحب نے مجھے کال بیک نہیں کی،سندھ کی تقسیم کے بیج اورپودے پیپلزپارٹی لگارہی ہے،پیپلزپارٹی والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں یہ ظلم بند کردیاجائے۔انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ایم کیو ایم کے جن کارکنان کا ماورائے عدالت قتل ہوا ہے اس کا نوٹس لے کراس میں ملوث افراد کوفی الفورسزائے دیں ،ہم پاکستان کی فلاح چاہتے ہیں، ہم کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے لیکن اگرمہاجروں میں بھی باغی پیداہوگئے توکیایہ عمل ملک کیلیے بہترہوگا؟۔الطاف حسین نے کہاکہ میں آصف زرداری سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نسلوں تک کا اتحاد کریں گے کیا اس طرح نسلوں تک کا اتحاد ہوتاہے، خدارا اپنی پالیسی کو نئے طریقے سے بنائیں،امن اتحاداوربھائی چارے کی ضرورت ہے ، میری بات کسی کو بری لگی ہوخلوص دل سے معافی مانگتاہوں،آپریشن سے متعلق شکایتوں کے حوالے سے سوال پرالطاف حسین نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں سے شکایت ہے ،شاہدحیات فہدعزیز کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں ،وزیراعلیٰ سندھ شاہد حیات کامعائنہ کروائیں جس شہر کاپولیس چیف یہ ہوگاتواس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔