ہر سال ملک میں4لاکھ بچے مہلک بیماریوں کا شکار ہو نے لگے

ایک لاکھ بچوں کو حفاظتی ویکسین سے بچایا جاسکتا ہے،خسرہ اور نمونیہ سے بچوں کی ہلاکت بڑھ رہی ہے،ماہر اطفال اقبال میمن


Staff Reporter February 11, 2014
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین مہم کے ذریعے متعدی امراض کا خاتمہ کردیا گیا. فوٹو: فائل

پاکستان میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکرسالانہ 4 لاکھ سے زائد بچے زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں ان میں ایک لاکھ بچوں کوحفاظتی ویکسین دیکر بچایا جاسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیڈیا ٹرکس ایسوسی ایشن کے صدراور ماہر اطفال پروفیسر اقبال میمن نے کرتے ہوئے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود حفاظتی ٹیکوں کے مراکز پر متعدی اور مہلک بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر بچوںکی زندگیاں محفوظ بنائیں، پاکستان میں بچوں کی سالانہ شرح اموات بہت زیادہ ہے بچوں کو حفاظتی ویکسین لگواکر نمونیہ، تشنج، خسرہ، پولیو،گردن توڑ بخار سمیت دیگر بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے، پاکستان میں خسرہ اور نمونیہ کے مرض سے بچوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔



دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین مہم کے ذریعے متعدی امراض کا خاتمہ کردیا گیا لیکن پاکستان کوایک خطرناک ملک تصورکیا جاتا ہے جہاں یہ امراض عام ہیں،ای پی آئی میں9 متعدی امراض میں پولیو، نمونیہ، ہیپاٹائٹس بی، خناق، تشنج، پرٹسز، ہب، خسرہ اور ٹی بی شامل ہیں، والدین حکومت کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے ذریعے مہلک بیماریوں سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔