معین کی قسمت کا ستارہ پھر چمک اٹھا بطور منیجر برطرفی کے بعد ہیڈ کوچ مقرر

وقار یونس کی عہدےپرواپسی کا خواب پورانہ ہو سکا،اظہر خان عبوری چیف سلیکٹر،شعیب محمدفیلڈنگ کوچ مقرر،ذاکرخان منیجر برقرار


Sports Reporter February 12, 2014
بولنگ کوچ محمد اکرم کے کنٹریکٹ میں2سال کی توسیع،ظہیر عباس کو چیف کرکٹ کنسلٹنٹ کا عہدہ سونپ دیا گیا،ایشیا کپ میں پلیئرز کی بیٹنگ بھی بہتر بنائیں گے۔ فوٹو: فائل

معین خان کی قسمت کا ستارہ پھر چمک اٹھا، ذکا اشرف کے دور میں منیجر کے عہدے سے فارغ ہونے والے سابق کپتان کو پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی نے ہیڈ کوچ مقررکردیا۔

وقار یونس کی عہدے پرواپسی کا خواب پورا نہ ہو سکا، ذکا اشرف کی جانب سے چیف سلیکٹر عامر سہیل، جونیئر اور ویمنز کوچ محمد الیاس اور کوچ کراچی ریجنل اکیڈمی باسط علی کی تقرریوں کو سروس رولز کیخلاف قرار دیتے ہوئے انھیں فارغ کر دیا گیا،اظہرخان عبوری چیف سلیکٹر مقرر ہوئے،بولنگ کوچ محمد اکرم کے کنٹریکٹ میں2سال کی توسیع ہو گئی، ظہیر عباس کو چیف کرکٹ کنسلٹنٹ کا عہدہ سونپا گیا، وہ ایشیا کپ میں پلیئرز کی بیٹنگ بہتر بنانے کی اضافی ذمہ داری بھی نبھائیں گے،قانونی مشیر تفضل رضوی بھی بحال ہوگئے،اراکین نے نجم سیٹھی کے بطور چیئرمین تقرر کی توثیق کر دی، وزارت خارجہ کی طرف سے کلیئرنس ملنے کے بعد گرین شرٹس کو 5 ملکی ایشیائی ایونٹ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کیلیے بنگلہ دیش بھجوانے پر بھی اتفاق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف وزیر اعظم کی جانب سے ذکا اشرف کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی نے کام کا باقاعدہ آغازکر دیا۔

گذشتہ روز پہلا اجلاس قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوا جس میں8میں سے 5 اراکین نجم سیٹھی(چیئرمین)، شہر یار خان، شکیل شیخ، ظہیرعباس، اقبال قاسم، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، سیکریٹری کمیٹی بیرسٹر سلمان نصیر نے شرکت کی،3 ارکان نوید اکرم چیمہ، شیخ اعجاز اوریوسف کھوکھر میٹنگ کا حصہ نہ بن سکے، تفضل رضوی مینجمنٹ کی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ 6گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اجلاس میں بگ تھری ایشو سمیت ذکا اشرف کے دور میں ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں نجم سیٹھی نے کہا کہ ایشیاکپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 میں شرکت کیلیے وزارت خارجہ نے کلیئرنس جاری کر دی جس کے بعد ٹیم دونوں میگا ایونٹس کیلیے بنگلہ دیش جائے گی، انھوں نے کہا کہ حالیہ تقرریوں میں کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوئی،کوچنگ کے دوسرے امیدوار وقار یونس میرے ہیرو ہیں، بے شک وہ بیحد محنتی اور دیانتدار انسان ہیں۔

اجلاس میں ان کے بارے میں خاصی بحث بھی ہوئی لیکن کوچ فائنڈنگ کمیٹی کا پہلا انتخاب معین خان تھے، اس لیے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین کو ہی چیف کوچ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد نے بھی درخواست جمع کرائی تھی، کوچ کمیٹی نے انھیں فیلڈنگ کوچ بنانے کی سفارش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ2 ماہ بعد ٹیم مینجمنٹ سمیت سب کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے جس کی بنیاد پر ہی کنٹریکٹ میں توسیع کے بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ آئین کے مطابق چیئرمین ایک لاکھ سے کم تنخواہ کا ملازم اپنے صوابدیدی اختیار کیلیے بھرتی کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن زیادہ تنخواہ کی صورت میں اس آسامی کیلیے اشتہار دینا ضروری ہوتا ہے، عامر سہیل کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا اور ان کی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ انھوں نے کہاکہ ایشین بریڈ مین اعزازی طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن بورڈ انھیں ایک لاکھ روپے سے کم معاوضہ دے گا، سابق چیئرمین کی جانب سے محمد الیاس اور باسط علی کی تقرریاں غلط تھیں اس لیے انھیں فارغ کر دیا گیا۔

اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کہاکہ عامر سہیل کی بطور چیف سلیکٹر اور ڈائریکٹر گیم ڈیولمپنٹ تقرری کا نوٹیفکیشن پی سی بی کی جانب سے جاری ہی نہیں کیا گیا، اس لیے ان کا بورڈ میں کوئی عہدہ نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ سابق بورڈ چیف نے قومی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ محمد اکرم کے کنٹریکٹ میں2سال کی توسیع کی تھی جسے مینجمنٹ کمیٹی نے برقرار رکھا۔ سابق بیٹسمین ظہیر عباس کو چیف کرکٹ کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا جو ایشیا کپ میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کی اضافی ذمہ داری بھی نبھائیں گے۔ سبحان احمد نے کہا کہ اجلاس میں اہم انتظامی فیصلے کیے گئے،ذاکر خان کو ٹیم منیجر برقرار رکھا گیا ہے، وہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 تک ذمہ داریاں انجام دیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ اظہر خان قائم مقام چیف سلیکٹر ہو نگے،اجلاس میں شریک کمیٹی کے اراکین نے قانونی معاملات کو چلانے کیلیے سابق قانونی مشیر تفضل رضوی کو بحال کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مینجمنٹ کمیٹی کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں نجم سیٹھی کی بطور چیئرمین تقرری کی توثیق کر دی گئی،ارکان کو آئی سی سی کے ساتھ بگ تھری کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سبحان نے کہا کہ لاہور اور بہاولپور ریجن کے معاملات عدالت میں ہونے کے باعث وہاں ایڈہاک کمیٹیز قائم رہیں گی، دیگر ریجنز کے معاملات پی سی بی خود دیکھے گا۔