ضلع غربی پانی کے کوٹے میں یومیہ 10 کروڑ گیلن کی کمی

قانون نافذ کرنیوالے ادارے آپریشن کی آڑ میں بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے رشوت طلب کر رہے ہیں،پریس کانفرنس


Staff Reporter February 13, 2014
ایم کیو ایم کے ایم پی اے محمد حسین پریس کا نفرنس کررہے ہیں ،یوسف شاہوانی اور سیف الدین بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

LONDON: کراچی کے ضلع غربی سے تعلق رکھنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے ایک سازش کے تحت ضلع غربی میں پانی کے موجودہ کوٹے میں100 ایم جی ڈی (ملین گیلن ڈے) کی کمی کردی ہے جبکہ ضلع کا کوٹہ155 ایم جی ڈی مختص ہے ،ضلع غربی میں عوام کا پانی واٹر مافیا کو فراہم کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ضلع غربی کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن کی آڑ میں بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے بھاری رشوت طلب کررہے ہیں، ان تمام وجوہات کا مطلب یہ ہے کہ ضلع غربی کے عوام کو حق پرستوں پر اعتماد کی سزا دی جارہی ہے، اگر اس صورتحال کا نوٹس نہ لیا گیا تو عوام سڑکوں پر آجائیں گے اور حالات کی تمام تر ذمے داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی، ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی کامران اختر، یوسف شاہوانی اور سیف الدین خالد بھی موجود تھے، انھوں نے کہا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں ضلع غربی کے حق پرست عوام نے ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور نامزد حق پرست امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا جہاں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 4 اور صوبائی اسمبلی کی 7نشستیں حاصل کیں تاہم یہ بات کچھ نادیدہ قوتوں کو عوام کی بھرپور حمایت سے ایم کیو ایم کی کامیابی پسند نہ آئی اور انھوں نے ضلع غربی کے عوام کو بدظن کرنے اور ان میں ایم کیو ایم کے خلاف منفی سوچ پیدا کرنے کے لیے سازشی حربے استعمال کیے اور مزید سازشیں کررہے ہیں جس سے یہ تاثر قائم ہو کہ حق پرست نمائندے وہاں کے عوام کے مسائل حل نہیں کررہے ہیں اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ضلع غربی کے رہائشی اور صنعتی علاقوں کو پینے کے پانی کی سپلائی کا جو حصہ متعین کیا گیا ہے وہ حب ڈیم اور دھابیجی سے فراہم کیا جاتا ہے یعنی 100 ایم جی ڈی حب ڈیم سے اور 40 ایم جی ڈی دھابیجی سے فراہم کیا جاتا ہے،20 ایم جی ڈی این ای کی لائن کے ذریعے اور15 ایم جی ڈی کے تھری لائن کے ذریعے یعنی کل155 ایم جی ڈی پانی ضلع غربی کیلیے مختص کیا گیا تھا، اتنا پانی بھی ضلع غربی کے عوام کے لیے ناکافی ہوتا تھا، مختلف علاقوں میں شیڈول کی بنیاد پر پانی فراہم کیا جاتا تھا، غیر قانونی ہائیڈرنٹ، غیر قانونی پانی کی لائنوں کے ذریعے پانی کی چوری کی جارہی ہے، انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سازش کے تحت پانی کی متعین مقدار 155 ایف ایم جی ڈی میں مرحلہ وار کمی کی اور آج پورے ضلع غربی میں 155 ایم جی ڈی کی بجائے صرف50سے55ایم جی ڈی پانی فراہم کیاجارہا ہے جو ضلع غربی کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور انہیں بوند بوند پانی کے لیے ترسانے کے مترادف ہے، انھوں نے کہا کہ ایک طرف بعض حکومتی اہلکار اور بیورو کریسی کے افسران ضلع غربی کے عوام کو بوند بوند پانی کو ترسا رہے ہیں اور انھیں پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم کررہے ہیں۔

دوسری جانب ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے بااثر حکومتی اہلکار اور بیورو کریسی کے افسران کروڑوں اوراربوں روپے کمارہے ہیں اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، واٹر بورڈ کے افسران کی نااہلی اور عدم توجہی کی وجہ سے پانی لائنوں میں بڑے پیمانے پر لیکیج سے پانی ضلع ہونے کی وجہ سے بھی عوام مطلوبہ پانی سے محروم ہیں،انھوں نے کہا کہ پانی کی بحرانی صورتحال کی ایک اور اہم وجہ واٹر بورڈ میں ٹیکنیکل عہدیوں پر نان ٹیکنیکل افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ ہے جس کا اثر براہ راست کراچی میں پانی کے سپلائی سسٹم پر ہورہا ہے،انھوں نے کہا کہ ایک طرف حق پرست عوام کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے تو دوسری طرف لا اینڈ آرڈر کے نام پر عوام پر حرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، اورنگی ٹائون، قصبہ علی گڑھ، پاک کالونی اور بلدیہ ٹائون کے مختلف علاقوں میں محاصرے کرنا گھروں میں گھسنا، لوٹ مار کرنا، خواتین اور بزرگوں سے بدتمیزی کرنا، دھمکیاں دینا اور بے گناہ لوگوں کو گرفتار کرنا روز کا معمول بنادیا گیا ہے، غریب اور بے گناہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے لاکھوں روپے بطور رشوت وصول کی جارہی ہے،انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عوام کے ساتھ ہے اور قائد تحریک الطاف حسین کی ہدایت کی روشنی میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔