فکسنگ کے آتش فشاں سے پھر چنگاریاں اُٹھنے لگیں

قومی ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ میں سیالکوٹ اسٹالینز اورکراچی ڈولفنز کا مقابلہ شکوک و شبہات کی زد میں آگیا


Sports Reporter February 14, 2014
شعیب الیون کا میدان میں اترنے سے انکار، چیئرمین کی مداخلت اور سابق کرکٹر کو کمنٹری پینل سے ہٹانے پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلے ،ہر میچ کو مانیٹر کرتے ہیں، بورڈ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ میں فکسنگ کے آتش فشاں سے ایک بار پھر چنگاریاں اٹھنے لگیں، قومی ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ میں سیالکوٹ اسٹالینز اورکراچی ڈولفنز کا مقابلہ شکوک و شبہات کی زد میں آگیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے دعویٰ کیاکہ سیالکوٹ کے کوچ اعجاز جونیئر نے انھیں خود فون کرکے بتایاکہ میچ کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ تھا، آفیشل نے اطلاع دینے کا الزام جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، باسط نے خود کہاکہ میچ فکسڈ لگ رہا تھا، سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے کہا کہ پیسر رانا نوید نے آف اسپن بولنگ کرکے حیران کردیا، سابق قائد راشد لطیف کے مطابق باسط کرکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں،ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کرائی جائیں۔ الزامات سامنے آنے پر شعیب ملک الیون نے کوارٹر فائنل کیلیے میدان میں اترنے سے انکار کردیا،چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے کہنے پر میچ کھیلنے کو تیار ہوئے، زبان پر تالہ بھی لگا لیا، بورڈ کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ تمام ڈومیسٹک ٹورنامنٹس پر نظر رکھتا ہے،اس ایونٹ کو بھی استثنٰی حاصل نہیں،ہر میچ کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ کے 11 فروری کو کھیلے گئے گروپ اے میچ سے قبل ہی سیالکوٹ اسٹالینز 6پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پوزیشن حاصل کرکے کوارٹر فائنل میں جگہ بناچکے تھے، دوسری طرف لاڑکانہ بلز سے 2 پوائنٹس پیچھے موجودکراچی ڈولفنز کو بقا کی امیدیں زندہ رکھنے کیلیے لازمی فتح درکار تھی، اسٹالینز میچ 6 وکٹ سے ہار گئے، ناکام ٹیم 91 رنز پر ڈھیر ہوئی،مضبوط بیٹنگ لائن کے 7 بیٹسمین ڈبل فیگر تک بھی نہ پہنچ سکے، ڈولفنز نے ہدف 4 وکٹ پر17.1 اوورز میں حاصل کر لیا۔میچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے دعویٰ کیاکہ ناکام سائیڈکے کوچ اعجاز جونیئر نے انھیں خود فون کرکے بتایا کہ میچ فکسڈ تھا، دوسری طرف اعجاز نے اطلاع دینے کا الزام جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی، باسط علی نے خود کہاکہ میچ فکسڈ لگ رہا تھا، سابق ٹیسٹ کرکٹر نے ایک انٹرویو میں چیف پیٹرن وزیر اعظم نواز شریف اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سرفراز نواز نے کہا کہ باسط علی نے درست کہا تھا کہ دنیا کو کیا دکھا رہے ہو؟ پہلے ٹاپ آرڈر نے وکٹیں آسانی سے گنوائیں، پھر پیسر رانا نوید نے اچانک آف اسپن بولنگ کرکے حیران کردیا،راشد لطیف نے کہا کہ باسط علی کرکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں،اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ میچ فکسڈ تھا تو معاملہ دبانے کے بجائے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کرائی جائیں۔ الزامات پر چراغ پا سیالکوٹ ٹیم کے مطالبے پر باسط علی کو کمنٹری سے ہٹا دیا گیا،کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی نے ٹورنامنٹ کیلیے جن مبصرین کی خدمات حاصل کیں وہ کھلے عام ملکی اسٹار کرکٹرز پرغیر ذمہ دارانہ انداز میں تنقید کرتے ہیں۔اسٹالینز نے اسلام آباد لیپرڈز کیخلاف کوارٹر فائنل کیلیے میدان میں اترنے سے انکار کردیا، تاہم بعد ازاں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے فون پر میچ میں شرکت کیلیے تیار ہوگئے، اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلیے کھلاڑیوں نے انوکھا طریقہ اختیار کیا اور سیاہ پٹیاں باندھ کر میچ کھیلے۔

شعیب ملک نے الزامات کا جواب دینے کیلیے پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا،ذرائع کے مطابق انھوں نے چیئرمین پی سی بی کی فون پر ہدایات ملنے پر بعد ازاں کھل کر بات کرنے سے گریز کیا۔ آل رائونڈر نے کہاکہ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن مزید بات کرکے ملک کا نام بدنام نہیں کرنا چاہتا، یہ پی سی بی کا معاملہ ہے جسے وہ خود دیکھے گا،کوارٹر فائنل میں اپ سیٹ شکست پر انھوں نے کہا کہ الزامات پر دبائو کا شکار کھلاڑی صبح 5بجے تک جاگتے رہے، ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے پرفارم نہیں کرپائے۔ دوسری طرف کرکٹ بورڈ کی پریس ریلیز میں بتایا گیاکہ اینٹی کرپشن یونٹ ہر ڈومیسٹک ٹورنامنٹ پر نظر رکھتا ہے،اس ایونٹ کو بھی استثنٰی حاصل نہیں، ہر میچ کو مانیٹر کیا جارہا ہے، پی سی بی اس معاملے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کریگا۔ یاد رہے کہ پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میچ فکسنگ کے حوالے سے پہلے بھی الزامات کی زد میں آچکی ہے۔