کامران اکمل کی ٹیم میں شمولیت پرکرکٹ حلقے حیران

ڈپارٹمنٹل ٹی20کپ کے تین میچز میں صرف22 رنز بنانے پر قومی ٹیم کیلیے انتخاب


Sports Desk February 18, 2014
ڈپارٹمنٹل ٹی20کپ کے تین میچز میں صرف22 رنز بنانے پر قومی ٹیم کیلیے انتخاب. فوٹو: فائل

آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20کیلیے قومی اسکواڈ میں کامران اکمل کی شمولیت نے کرکٹ حلقوں کو حیران کر دیا۔

انھیں سلیکٹرز نے اوپنر ہونے کی دلیل کے ساتھ منتخب کرتے ہوئے یہ تاویل بھی دی کہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی بھی نمبر پر خود کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں، درحقیقت یہ سلیکشن چہرہ دیکھ کر ضرور کیا گیا لیکن کارکردگی ہرگز نہیں دیکھی گئی۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق رواں سیزن میں کامران نے فرسٹ کلاس میچز میں641 اور ون ڈے کپ میں263 رنز اسکور کیے،ان کا انتخاب ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں ہوا مگر اس میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے، کامران اکمل نے ڈپارٹمنٹس کے ٹی ٹوئنٹی کپ کے تین میچز میں صرف22 رنز بنائے، اس میں بہترین انفرادی اسکور17رنز ہے،اسی طرح ریجنز کے ٹی ٹوئنٹی کپ میں ان کے تین میچز میں بنائے گئے رنز کی تعداد صرف 58 ہے، سب سے بڑی اننگز30 رنز کی تھی۔ ماہرین نے سوال کیا کہ کیا یہ کارکردگی کامران اکمل کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت کو حق بجانب ثابت کرتی ہے؟

ماضی میں بھی کھلاڑیوں کو چار روزہ میچز کی پرفارمنس پر محدود اوورزکی ٹیم اور اس کی کارکردگی پر ٹیسٹ سائیڈ میں شامل کیا جاتا رہا ہے جس کے نتائج مایوس کن رہے۔ جس ٹی ٹوئنٹی کپ میں کامران اکمل صرف 22 رنز بناکر سب کی آنکھ کا تارہ بنے اسی میں وکٹ کیپر سرفراز احمد نے سب سے زیادہ 250 رنز اسکور کیے، ان میں تین نصف سنچریاں شامل تھیں، بعض حلقوں کے مطابق وہ ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ کی گڈبک میں نہ ہونے کے سبب ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے کامران اکمل اور فواد عالم کی سلیکشن کو ان کے ڈپارٹمنٹ نیشنل بینک اسپورٹس ڈویژن کے سربراہ اور پی سی بی گورننگ بورڈ کے ممبر اقبال قاسم کی مہربانی قرار دیا ہے، حالانکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ سابق ٹیسٹ اسپنر نے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے کامران کو خراب کارکردگی پر ٹیم سے ڈراپ کیا تھا، انھوں نے عمراکمل کو بطور وکٹ کیپر آزمانے کا فیصلہ کیا جس پر کامران بہت خفا ہوئے تھے۔ فواد کی کارکردگی سب کے سامنے ہے جس کے لیے انھیں کسی سفارش کی ضرورت نہ تھی۔