حصص مارکیٹ میں مندی برقرار مزید 26 پوائنٹس کمی

انڈیکس 15214 پر بند، 49.7 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں، 7 ارب 16 کروڑ کا نقصان


Business Reporter September 12, 2012
انڈیکس 15214 پر ند، 49.7 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں، 7 ارب 16 کروڑ کا نقصان. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

RIYADH: پی ٹی سی ایل کی جانب سے توقعات کے برعکس اپنے حصص یافتگان کے لیے ڈیوڈنڈ کا اعلان نہ ہونے اور ایم ایس سی آئی حکام کی جانب سے کے ایس ای کا درجہ بڑھانے کی اطلاعات کی تصدیق نہ ہونے جیسے عوامل کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی اتارچڑھائو کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔

تاہم بعض مقامی شعبوں کی کچھ اسٹاکس میں خریداری سرگرمیوں کی وجہ سے انڈیکس کی15200 کی حد مستحکم رہی، مندی کے باعث 49.69 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے7 ارب16 کروڑ 26 لاکھ83 ہزار966 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل کی جانب سے اپنے حصص یافتگان کے لیے منافع کا اعلان نہ ہونے سے سرمایہ کاروں کو مایوسی ہوئی اور مارکیٹ میں ریزلٹ سیزن اختتام پزیر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی کے اثرات غالب رہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے مارکیٹ اتارچڑھائو اور ملے جلے رحجان سے دوچار رہے گی تاہم انڈیکس کی 15000 کی نفسیاتی حد مستحکم رہنے کی توقع ہے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 40 لاکھ4 ہزار891 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی وجہ سے ایک موقع پر49 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی۔

لیکن مقامی کمپنیوں کی جانب سے12 لاکھ77 ہزار 974 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے6 لاکھ76 ہزار 206 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے ایک لاکھ 38 ہزار 773 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 19 لاکھ11 ہزار 937 ڈالر کے انخلا سے تیزی برقرار نہ رہ سکی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس26.17 پوائنٹس کمی سے 15214.02 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 9.36 پوائنٹس کمی سے12951.89 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس23.47 پوائنٹس گھٹ کر26894.27 ہوگیا۔

کاروباری حجم پیر کی نسبت 26.20 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 15کروڑ35 لاکھ 78 ہزار 620 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ328 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں144 کے بھائو میں اضافہ، 163 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور فوڈز کے بھائو163.45 روپے بڑھ کر 3432.45 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھائو 25 روپے بڑھ کر1350 روپے ہوگئے۔