کراچی لہو لہان سول سوسائٹی آگے آئے

منی پاکستان بلاشبہ جرائم کے ایک الم ناک دورانیے سے گزر رہا ہے


Editorial February 18, 2014
منی پاکستان بلاشبہ جرائم کے ایک الم ناک دورانیے سے گزر رہا ہے،۔فوٹو: فائل

پر تشدد وارداتوں کی خلاف توقع لہر ایک بار پھر شہر قائد کو اپنے ہولناک حصار میں لیے ہوئے ہے، مجرموں کے قبضے سے نیٹو کا اسلحہ برآمد ہوا ہے، جرائم پیشہ گروہوں کی قانون شکنی اور دیدہ دلیری نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، منی پاکستان بلاشبہ جرائم کے ایک الم ناک دورانیے سے گزر رہا ہے، قاتلوں کی عدم شناخت اورواردات کے بعد ان کی موقع سے فرار ہونے کی حکمت عملی نے آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کسی ایک بھی بڑے مجرم کو عبرت ناک سزا پاتے کسی نے نہیں دیکھا، پولیس و رینجرز ٹارگٹڈ آپریشن اوربڑے پیمانہ پر جرائم پیشہ عناصر کی پر شور گرفتاریوں اور ہلاکتوں کے باوجود امن و امان کی بحالی اور مجموعی صورتحال کو قابو میں نہیں لاسکے ۔ گزشتہ روز شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کے واقعات میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر جاوید قاضی ، سیاسی کارکن ، سب انسپکٹر سمیت11 افراد جاںبحق جب کہ خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے، قائد آباد میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں 2 ملزمان کو ہلاک کر کے اسلحہ اور دستی بم برآمد کرلیا ۔ادھر گرو مندر کے قریب نا معلوم افراد آج نیوز اور وقت چینل کے دفاتر پر کین بم پھینک کر فرار ہوگئے ۔اے آر وائی چینل کی پارکنگ میں نامعلوم افراد دھماکہ خیز مواد رکھ کر غائب ہوگئے ۔

آج نیوزکی عمارت کے قریب بم پھٹنے سے 2 ملازمین زخمی ہوگئے جب کہ خوش قسمتی سے وقت چینل پر پھینکا جانے والابم پھٹ نہیںسکا ۔ گورنر سندھ، وزیراطلاعات شرجیل میمن اور صحافتی تنظیموں نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ میڈیا گروپس پر حملے تشویش ناک ہیں ۔کوشش کی جائے کہ بے قابو عناصر کو واردات سے پہلے پکڑا جائے ، یہی سب سے بڑی خرابی اور ناکامی ہے ۔بہر حال یہ سارے واقعات کراچی کو میدان جنگ بنانے کا شر انگیز ایجنڈا نظر آتے ہیں ۔یکے بعد دیگرے ہلاکتیں اتنی درد انگیز اور پراسرار ہیں کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کا تدارک کیسے ہو، ایک بے ہنگم آپریشن کافی نہیں جس میں گرفتار ہونے والے خود کو بیگناہ جب کہ قانون نافذ کرنے والے انھیں منی پاکستان کی مخدوش حالت اور ٹارگٹڈ کلنگ میں ملوث بتاتے ہیں، ایم کیو ایم نے آپریشن کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔تیموریہ کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے ایم بلاک میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ڈین آف میڈیسن ڈاکٹرجاوید قاضی کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت فعل ہے،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ڈاکٹر جاویدپر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے ، قاتلوں کی گرفتاری میں کوئی تساہل نہ برتا جائے۔ پروفیسر جاوید قاضی کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں گزشتہ15سال سے تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے وہ کالج میں پروفیسرآف پیتھالوجسٹ بھی تھے ۔

بے لوث خدمات کے اعتراف میںانھیں کراچی یونیورسٹی میں ڈین آف میڈیسن بھی مقرر کیا گیا تھا، مرحوم عباسی اسپتال کی لیبارٹری میں بھی پیتھالوجسٹ کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں ادا کرتے تھے جب کہ نیشنل انسٹیٹوٹ آف بلڈ ڈیزیز اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹرانسپلانٹیشن اور ضیاء الدین اسپتال میں بھی پریکٹس کرتے تھے، رفقا کے مطابق مرحوم کالج اور شعبہ طب کے میدان میں انتہائی شریف النفس اور غیر متنازعہ انسان تھے، پروفیسر جاوید قاضی گردوں کی پیوند کاری کے دوران گردہ کے انفیکشن کی تشخیص کے ماہر ڈاکٹر بھی تھے ۔ مرحوم نے 2صاحبزادے، ایک بیٹی اور ایک بیوہ کوسوگوارچھوڑ گئے ، ان کی اہلیہ بھی شعبہ طب سے وابستہ ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کریں، کرمنلز کا قبر تک پیچھا کریں ، اس اعصابی جنگ میں جیت ہر قیمت پر قانون کی حکمرانی کی ہونی چاہیے ۔ کراچی کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ پوری سول سوسائٹی مل کر بدامنی کا خاتمہ کرنے کی جدوجہد میں شریک ہو ۔ تب منی پاکستان بدامنی سے نجات پاسکے گا۔