ایران کا سستا تیل‘ پاکستان فائدہ اٹھائے

حکومت کے پاس ایران سے سستے داموں تیل خریدنے کا آپشن موجود ہے


Editorial February 23, 2014
حکومت کے پاس ایران سے سستے داموں تیل خریدنے کا آپشن موجود ہے. فوٹو:فائل

ملکی ترقی میں پٹرول کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔دنیا میں جو ممالک جتنی زیادہ ترقی کر رہے ہیں ان کی تیل کی ضروریات میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اخباری خبر کے مطابق ایران کے خلاف مغرب کی طرف سے عائد پابندیوں میں نرمی آنے کے بعد بھارت کی جانب سے ایران سے تیل کی درآمدات میں دگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت نے دسمبر 2013ء میں ایران سے یومیہ ایک لاکھ نواسی ہزار بیرل تیل درآمد کیا تھا جو رواں سال کے جنوری کے مہینے میں یومیہ چار لاکھ اکیس ہزار بیرل تک جا پہنچا ہے۔اس طرح مارچ 2012ء کے بعد ایران ہندوستان کو تیل برآمد کرنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔اس وقت ایشیا میں چین اور بھارت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں لہٰذا ان کی تیل کی طلب میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔دونوں ممالک بڑے پیمانے پر ایران سے سستے داموں تیل حاصل کر رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کو قدرت نے تیل کی دولت سے نواز رکھا ہے مگر ابھی تک ہم اپنی ضرورت کا بہت کم تیل حاصل کر رہے ہیں۔

خبر کے مطابق وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ذرایع نے بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں دو ارب دو کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ملکی مسائل کو دیکھتے ہوئے تلاش کے اس عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ حکومت مختصر دورانیہ کے بعد ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کہہ کر اضافہ کر دیتی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔یہ حقیقت مدنظر رہنی چاہیے کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے اس کا اثر معیشت کے ہر شعبے پر پڑتا ہے، روزمرہ کی تمام اشیا میں بلا اعلان اضافہ ہو جاتا ہے ہر طرف مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔مہنگائی میں اضافہ کے باعث عوامی سطح پر حکومت کے خلاف اشتعال بھی بڑھنے لگتا ہے۔مختصر دورانیہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باعث معاشی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس عمل سے تجارتی مارکیٹ میں بے یقینی پھیلتی ہے۔

حکومت کے پاس ایران سے سستے داموں تیل خریدنے کا آپشن موجود ہے تو وہ پھر دیگر ممالک سے مہنگے داموں تیل خرید کر اس کا بوجھ عوام پر کیوں منتقل کر رہی ہے۔عوامی حلقوں میں یہ باتیں عام ہیں کہ ایران کے ساتھ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اسمگل شدہ تیل سستے داموں فروخت ہو رہا ہے۔عالمی مارکیٹ سے مہنگا تیل خریدنے کے بجائے ایران سے سستا تیل کیوں نہیں حاصل کیا جا رہا۔ ایران سے گیس پائپ لائن پر بات چیت ہو رہی ہے تو تیل پائپ لائن بچھا کر بھی پاکستان سستے داموں تیل حاصل کرسکتا ہے جس کے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی دولت سے مالا مال ممالک اسے فروخت کرکے اربوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں، حکومت پاکستان کو بھی ملک میں تیل اور گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرنا ہو گا ۔ ملکی سطح پر وافر مقدار میں تیل نکالنے کی صورت میں جہاں تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہو گی وہاں اس کی برآمد سے خطیر زرمبادلہ حاصل ہوگا جس سے ملک میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔