نیٹو سپلائی اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان سامان لے جانے والے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکوں کو روکنے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا ہے


Editorial February 26, 2014
پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان سامان لے جانے والے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکوں کو روکنے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا ہے. فوٹو: فائل

ملکی تجارت کی ترقی کے لیے پڑوسی ممالک سے تجارتی تعلقات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس وقت یورپی یونین نے اپنے ہاں تجارت کے فروغ کے لیے اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر کے ترقی کے نئے دور کی جانب پیش رفت کی ہے۔ چین، بھارت اور پاکستان سے اپنے تجارتی تعلقات کو مہمیز کرنے کے علاوہ پوری دنیا کی مارکیٹ پر چھا رہا ہے۔ پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کی سست روی کی ایک وجہ اس کے ہمسایہ ممالک سے بہتر تجارتی تعلقات کا قائم نہ ہونا ہے۔ اس وقت افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت کا بڑا حصہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر مشتمل ہے۔ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے جانے والا سامان بھی پاکستان سے گزر کر جاتا ہے، گزشتہ سال نومبر میں ڈرون حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے احتجاج کرتے ہوئے نیٹو گاڑیوں کی آمدورفت روک دی تھی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس طرح وہ نیٹو ممالک پر دباؤ ڈال کر ڈرون حملے رکوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس احتجاج سے ڈرون حملے تو نہ رک سکے مگر اس سے نئے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے، خبر کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بعض گاڑیوں کو بھی اتحادی افواج کا سامان لے جانے والی گاڑیاں سمجھ کر روکا اور ڈرائیورز کو تشدد کا نشانہ بنایا، اب پشاور ہائی کورٹ کا بھی فیصلہ سامنے آ گیا ہے اور اس نے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے افغانستان سامان لے جانے والے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکوں کو روکنے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا وہاں کی صوبائی حکومت کا کام ہے۔

کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے پرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے مگر اس احتجاج میں قانون ہاتھ میں لینے کے عمل کو قطعی درست قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی مسئلے پر دوسرے ملک کے ساتھ جاری تجارتی عمل کو روکنا ریاست کا کام ہے نہ کہ سیاسی جماعتیں ازخود اس عمل کو روکنے کی کوشش کریں، سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو طیاروں کے حملے کے بعد نیٹو سپلائی کو روکنے کا فیصلہ ریاست کا تھا جو بالکل ایک درست عمل تھا۔ خارجہ امور اور دوسرے ممالک سے تمام معاملات کو طے کرنے اور ختم کرنے کا اختیار ریاست کا ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کو اس پر کوئی اعتراض ہو تو وہ اس کے لیے آئینی اور قانونی رستہ اختیار کر سکتی ہیں اگر وہ از خود قانون کو ہاتھ میں لے کر تشدد کا راستہ اپناتی ہیں تو اس سے دیگر ناخوشگوار مسائل کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔

جس طرح پشاور کے ایک ایکسپورٹر نے ہائی کورٹ میں اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے نیٹو سپلائی بندش کے نام پر عام اشیا کی چیکنگ شروع کر دی اور مختلف واقعات میں کنٹینرز کی سیلیں توڑ دی گئیں۔ افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے وہاں کے ایکسپورٹرز کا کاروبار بھی تباہ ہو رہا ہے جس سے اس سے وابستہ متعدد افراد بے روز گار ہو سکتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک سے تجارت کے عمل سے روز گار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ اس عمل کے رکنے سے ملک کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ سیاسی کارکن احتجاج ضرور کریں مگر ریاستی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر مزید مسائل جنم نہ دیں۔ یہی سیاست کا سب سے اچھا اصول ہے جس سے کسی طور صرف نظر نہیں کیا جانا چاہیے۔