تجاوزات اور رکشا اسٹاپس تین ہٹی سے سہراب گوٹھ تک تعمیر فلائی اوور افادیت کھو بیٹھے

چنگ چی اور سی این جی رکشوں کے غیر قانونی اسٹاپ قائم، شاہراہ پر ٹریفک جام معمول بن گیا، روزانہ سیکڑوں راہ گیر پریشان


Staff Reporter February 27, 2014
لیاقت آباد ڈاکخانے اور 10 نمبر تک پولیس، ٹریفک پولیس اور بلدیاتی اداروں کے اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی میں دوبارہ پتھارے لگ گئے۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے تین ہٹی سے سہراب گوٹھ تک ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے قائم کیے جانے والے فلائی اوورز کے قیام کے بعد لیاقت آباد ڈاکخانے پر تعمیرکیا جانے والا فلائی اوور چنگ چی رکشوں کے غیر قانونی اسٹاپوں ،غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے باعث اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔

کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا ڈاکخانہ فلائی اوورکوقائم ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا ہے کہ اس پل سے لیاقت آباد 10 نمبر تک شاہراہ کے دونوں ٹریک پر پولیس ،ٹریفک پولیس اور بلدیاتی اداروں کے اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی میں دوبارہ پتھارے لگ گئے ہیں،چنگ چی اورسی این جی رکشوں کے غیر قانونی اسٹاپ قائم کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے لیاقت آباد 10نمبر سے ڈاکخانے تک ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے اور کے ایم سی کی ٹریفک کو روانی سے برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات بے اثر ثابت ہو رہے ہیں،ایکسپریس سروے کے مطابق کے ایم سی نے سہراب گوٹھ سے گرومندر تک ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے سگنل فری شاہراہ بنانے کے لیے4 فلائی اوورز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ، جس میں واٹر پمپ ، عائشہ منزل اور لیاقت آباد ڈاکخانہ فلائی اوورز کو مکمل کرکے ان کے دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

سہراب گوٹھ سے جو شہری اپنی گاڑی میں گرومندر آنے یا گرومندر سے سہراب گوٹھ جانے کے لیے سفر شروع کرتا ہے ، وہ شہری سہراب گوٹھ سے تیزی سے 8 سے 10 منٹ میں لیاقت آباد10نمبر کے پل پر پہنچ جاتا ہے ،جیسے ہی وہ پل اترتا ہے وہ10 نمبر اور ڈاکخانہ فلائی اوور کے درمیان شاہراہ کے آنے والے ٹریک پر پھنس جاتا ہے کیونکہ اس شاہراہ پر غیر قانونی رکشوں کے اسٹاپ ، غیر قانونی موٹرسائیکل اور کار پارکنگ اور پتھارے اس کے منتظر ہوتے ہیں جبکہ گرومندر سے ڈاکخانہ فلائی اوور جانے والا شخص اپنی گاڑی میںباآسانی پل کے اختتام تک تو پہنچ جاتا ہے لیکن اس پل سے10 نمبر کے پل تک نہیں جانے والے ٹریک پر تجاوزات اس کی منتظر ہوتی ہیں ، سروے میں یہ بات دیکھنے میں آئی کہ کے ایم سی نے گذشتہ دو ہفتے قبل اس شاہراہ کے دونوں ٹریک پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا لیکن مافیا نے دوبارہ اس شاہراہ پر تجاوزات قائم کردیں ، جس کی وجہ سے اس شاہراہ کے دونوں ٹریک کے آدھے آدھے حصوں پر سیکڑوں کی تعداد میں پتھارے دوبارہ لگ گئے ہیں اور رکشے والوں نے صرافہ مارکیٹ اور سپر مارکیٹ کے قریب غیر قانونی اسٹاپ قائم کر لیے ہیں۔

پارکنگ مافیا نے بھی دوبارہ اس شاہراہ پر موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی پارکنگ شروع کردی ہے، موٹر سائیکل والوں سے 10 روپے اور بڑی گاڑیوں سے 20 سے 30 روپے 3 گھنٹے کے وصول کیے جاتے ہیں ، اس کی وجہ سے دونوں ٹریک پر ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے،بلدیاتی اداروں کی عدم توجہ کے باعث لیاقت آباد 10 نمبر ، لیاقت آباد چار نمبر ، شاہراہ پاکستان کے مختلف حصوں، لیاقت آباد ڈاکخانہ ، تین ہٹی کی شاہراہیں کافی عرصے سے مرمت نہ ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں ، جو ٹریفک جام رہنے کی ایک بڑی وجہ بھی ہیں ،شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرگرومندر سے سہراب گوٹھ تک شاہراہ کے دونوں حصوں پر تجاوزات نہیں ہوں گی تو 20 منٹ میں یہ فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے ،شہریوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی رؤف اختر فاروقی سے اپیل کی ہے کہ گرومندر سے کریم آباد تک ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے سڑکوں پر لگائے گئے پتھاروں کو فوری ہٹایا جائے اور لیاقت آباد10 نمبر پر سگنلز نصب کرنے کے علاوہ شاہراہوں کی فوری مرمت کی جائے ۔