پاکستانی ٹیم افغانستان کیخلاف ہنر آزمانے کو تیار

سری لنکا سے شکست کے بعد گرین شرٹس ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے پر مجبور ،پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان کم


Sports Desk February 27, 2014
سری لنکا سے شکست کے بعد گرین شرٹس ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے پر مجبور ،پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان کم۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ایشیا کپ میں پاکستان جمعرات کو اپنے دوسرے میچ میں افغانستان کیخلاف ہنر آزمائے گا۔

ابتدائی میچ میں سری لنکا سے شکست کے بعد گرین شرٹس ایونٹ میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے پر مجبور ہوگئے، ٹائٹل کے دفاع کے لیے مزید ناکامیوں سے بچنا ہوگا، پلیئنگ الیون میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ دوسری جانب افغان سائیڈ نے ایشیائی ایونٹ میں ڈیبیو پر ہی اپ سیٹ کے خواب دیکھنا شروع کردیے، کپتان محمد نبی کو اپنے کھلاڑیوں کے بنگلہ دیش میں کھیلنے کا تجربہ اعتماد بخش رہا ہے، موجودہ ٹیم کے 6 کھلاڑی مختلف کلبزکی جانب سے ڈھاکا پریمیئر لیگ میں حصہ لے چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دفاعی چیمپئن پاکستان کو ایشیا کپ کے اپنے ابتدائی میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں 12 رنزکی شکست سے دوچار ہونا پڑا، 2 قیمتی پوائنٹس کھونے سے آغاز میں ہی سفر دشوار ہوگیا، اب ٹیم کا سامنا افغان سائیڈ سے ہے جو ورلڈ کپ 2015 میں بھی جگہ پا چکی،اسی بنیاد پر اسے ایشیا کپ کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

یہ افغانستان کا اس ایونٹ میں پہلا میچ ہوگا، ٹیم نے اپنی آنکھوں میں بڑے سپنے سجا لیے ہیں، اسکواڈ کے 6 کھلاڑی یہاں ڈومیسٹک ایونٹ میں مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے کنڈیشنز سے کافی حدتک واقف ہیں، خود کپتان محمد نبی بھی ڈھاکا لیگ کھیل چکے ہیں، افغان سائیڈ اس سے قبل صرف 2 مرتبہ ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کے خلاف ون ڈے میچز کھیل پائی، پاکستان اور آسٹریلیا کیخلاف اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا، ٹیم کے لیے پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس کے پاس ہارنے کے لیے کچھ نہیں اس لیے وہ بے خوف ہوکر حریف سائیڈز پر حملہ آور ہوگی، محمد نبی نے کہاکہ ہم نے اپنے لیے کوئی ہدف سیٹ نہیں کیا مگر اچھی کرکٹ کھیلنا ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔

دوسری جانب پاکستان کو بیٹنگ آرڈر کی غیرمستقل مزاجی کی مستقل بیماری نے زچ کیا ہوا ہے، سری لنکا سے میچ میں بھی فتح کے قریب پہنچ کر گرین شرٹس خالی ہاتھ رہ گئے تھے، مدمقابل ناتجربہ کار سائیڈ ہونے کے باوجود ٹیم کسی بھی غیرذمہ داری کی متحمل نہیں ہوسکتی، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ہمیں میچ کے بہتر اختتام کی کوشش کرنا ہوگی، گذشتہ مقابلے کے شروع میں ہماری بولنگ بھی اچھی نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ رنز دیے۔ واضح رہے کہ فتح اللہ کی وکٹ میں اس بار بولرز کے لیے معاونت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،البتہ اوس کا عنصر موجود رہے گا، پہلے میچ میں وکٹ سے بولرز کو کم مدد ملے گی ۔