فکسنگ اسکینڈلسیالکوٹ اسٹالینز کو کلین چٹ مل گئی

بغیر ثبوت الزامات لگانے والے باسط علی کو بورڈ نے کراچی زون ون کا کنسلٹنٹ بنا دیا


Sports Reporter March 01, 2014
بغیر ثبوت الزامات لگانے والے باسط علی کو بورڈ نے کراچی زون ون کا کنسلٹنٹ بنا دیا. فوٹو: ایکسپریس/فائل

قومی ٹوئنٹی20 کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچ فکسنگ اسکینڈل میں سیالکوٹ اسٹالینز کو کلین چٹ مل گئی۔

بغیر ثبوت الزامات لگانے والے باسط علی کو کراچی زون ون کا کنسلٹنٹ بنا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی ٹوئنٹی20 ٹورنامنٹ کے دوران راولپنڈی اسٹیڈیم میں سیالکوٹ اسٹالینز اور کراچی ڈولفنز کے مابین 11 فروری کو کھیلا گیا میچ فکسنگ الزامات کی زد میں آگیا تھا،ٹی وی پر کمنٹری کرنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی کا کہنا تھا کہ ہمارے کرکٹرز دنیا کو کیا دکھا رہے ہیں، بعد ازاں سرفراز نواز نے بھی شعیب ملک الیون کی بیٹنگ اچانک فلاپ ہونے پر شکوک کا اظہار کیا، اسٹالینز نے احتجاج کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں شرکت سے انکار کیا، پھر باسط کو کمنٹری سے ہٹانے کا مطالبہ منوانے کے بعد سیاہ پٹیاں باندھ کر میچ کھیلنے کیلیے تیار ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مبینہ فکسنگ الزامات کی انکوائری کیلیے3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی، جس میں جنرل منیجر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز شفیق احمد، سینئر منیجر اسکروٹنی اینڈ اینٹی کرپشن کرنل(ر) وسیم احمد شاہد اور کرکٹر علی نقوی شامل تھے۔

پی سی بی کی پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے باسط علی، سیالکوٹ کے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور معاون اسٹاف کے بیانات سمیت تحقیقات مکمل کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیاکہ شواہد میچ میں کوئی ناجائز حربہ استعمال کیے جانے کا الزام ثابت کرنے کیلیے ناکافی ہیں، اگر کوئی نیا ثبوت ملے تو معاملے کی از سرنو انکوائری کی جانی چاہیے۔دوسری طرف اسکینڈل کے آغاز سے کمیٹی کی تحقیقات تک اپنے موقف پر ڈٹے رہنے والے باسط علی کو بورڈ میں ملازمت مل گئی، سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کو ہٹائے جانے کے ساتھ ہی کراچی ریجنل اکیڈمیز کی ذمہ داریوں سے فارغ کیے جانے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر بورڈ میں اکھاڑ پچھاڑ پر تنقیدی بیانات داغتے رہے، اب حیران کن طور پر نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم نئے سیٹ اپ میں بھی ان کی جگہ بن گئی ہے، باسط علی کو کراچی، حیدر آباد، ڈیرہ مراد جمالی اور لاڑکانہ پر مشتمل زون ون کا کرکٹ کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا، وہ ریجنل اکیڈمیز پروگرام، ٹیلنٹ ہنٹ اسکیمز اور اسکول و کلب کرکٹ کے معاملات پر نظر رکھیں گے، متعلقہ ریجنز میں انڈر 16 اور19سمیت کھیل کے فروغ کیلیے پروگرامز اور سالانہ کیلنڈر کی تیاری بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگی۔