اسلام آباد کچہری میں خود کش حملہ

یہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی میں پہل نہیں کی


Editorial March 03, 2014
حکومت ان گروہوں کی نشاندہی کرے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور اس طرح طالبان بھی ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کریں تاکہ امن مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔ فوٹو؛اے ایف پی

پیر کو اسلام آباد ایف ایٹ کچہری میں صبح دہشت گردوں کے خود کش حملے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان سمیت 11 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہو گئے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین تھی اور انھوں نے خود کش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق دو حملہ آوروں نے گرنیڈ پھینکنے کے بعد خود کو اڑا لیا۔ دوسرے واقعے میں خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکے اور فائرنگ سے دو اہلکار جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے دونوں واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ روز طالبان نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا حکومت کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا اور اس نے بھی جواباً خلوص نیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی حملے معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب اسلام آباد میں کچہری اور لنڈی کوتل میں ناخوشگوار واقعات سے حب الوطن حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور امن عمل کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اگرچہ طالبان ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ پھر وہ کون گروہ ہیں جو دہشت گردی کے واقعات کر رہے ہیں۔ پرامن مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کا یہ سلسلہ کیوں جاری ہے۔ اب خود کش دھماکے کی اس کارروائی کے بعد طالبان پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان گروہوں کی نشاندہی میں حکومت کی معاونت کریں تاکہ ان کا سدباب کیا جا سکے۔اگر کوئی گروہ طالبان کے کنٹرول میں نہیں اور از خود کارروائیاں کر رہا ہے تو پھر طالبان پر یہ ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس گروہ کے خلاف کارروائی کریں، ورنہ مختلف حلقوں کی جانب سے طالبان کو ان واقعات سے بری الذمہ قرار نہ دینے کے خدشات اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ اسلام آباد کچہری میں جاں بحق ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کے بارے میں جو خبر منظرعام پر آئی ہے اس کے مطابق انھوں نے لال مسجد کیس میں درخواست خارج کی تھی۔

اس صورت حال کے تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے اسے انتہا پسندوں ہی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اتوار کو ایک بیان میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جہاں طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے جنگی طیاروں کے حملے روکنے کا اعلان کیا وہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی بھی پر تشدد کارروائی کے خلاف حکومت اور افواج پاکستان بہر حال مناسب جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انھوں نے حکومتی کارروائیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے اس ابہام کہ حکومت کوئی کارروائی کر رہی ہے' کو دور کر دیا کہ حکومت نے نہ کوئی باقاعدہ فوجی آپریشن کیا اور نہ کسی قسم کی بلا جواز کوئی کارروائی کی' جو بھی کارروائی ہوئی وہ تشدد کی کارروائیوں کے ردعمل میں اور انھیں روکنے کے لیے کی گئی۔ یہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی میں پہل نہیں کی' حتیٰ کہ اس نے مذاکرات کے لیے ٹیم بنانے میں بھی پہل کی اور اس نے جو بھی کارروائی کی وہ ناخوشگوار واقعات ہی کا ردعمل تھی۔ طالبان کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بم دھماکوں اور حملے کی کارروائیوں میں کمی نہیں آ رہی اور وہ بدستور جاری ہیں۔ ہفتہ کو جمرود میں انسداد پولیو ٹیم پر یکے بعد دیگرے تین بم حملوں میں سیکیورٹی پر مامور خاصہ دار اور لیویز فورسز کے بارہ اہلکاروں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے۔ اب اسلام آباد کچہری اور لنڈی کوتل میں حملے ہوئے ہیں۔

اس صورت حال سے عوام میں پریشانی بڑھ رہی ہے کیونکہ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر حکومت بھی کچھ نہیں کر رہی اور طالبان نے بھی جنگ بندی کر دی ہے تو پھر خود کش حملے کون کر رہے ہیں؟ اب غیر ملکی ہاتھ کا شور مچانا آسان ہو گیا ہے' یوں حکومت بھی اپنی ذمے داری سے بری ہوجائے گی اور فریق مخالف بھی سکون میں رہے گا لیکن لوگوں کا نقصان ہوتا رہے گا' بہر حال وزیرداخلہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ کسی بھی پر تشدد کارروائی کے خلاف حکومت اور افواج پاکستان بہر حال مناسب جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اب اتوار کو خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ بھی پولیو ٹیم پر حملے کا ردعمل تھی' اس شیلنگ میں پولیو ٹیم پر حملوں میں ملوث پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے' ملا طمانچی کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ذرایع کے مطابق ہلاک ہونے والے جمرود میں پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر بم حملوں میں ملوث تھے۔

اگر نا معلوم گروہوں کی جانب سے بم دھماکوں کی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو حکومت پھر سے فضائی حملے کرنے پر مجبور ہو جائے گی جس کے لیے اسے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا' اس کے لیے وہ گروہ ہی ذمے دار ہوں گے جو حملے کر رہے یا کسی بھی طرح ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس طرح کے حملے ان حلقوں کے موقف کو تقویت دے رہے ہیں جو آپریشن کے حامی ہیں۔ وہ مذہبی و سیاسی حلقے جو مذاکرات کے حامی ہیں ان پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طالبان پر یہ واضح کریں کہ بدامنی کے واقعات میں جو گروہ بھی ملوث ہے اور مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اس گروہ کی واضح نشاندہی کی جائے تاکہ صرف امن مخالف عناصر ہی کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں اور ایسا امن کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ جب تک امن مخالف عناصر اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھیں گے امن مذاکرات میں تعطل پیدا ہوتا رہے گا اور پھر حکومت بھی امن کے قیام کے لیے مذاکرات کے بجائے آپریشن کا راستہ اپنانے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ان گروہوں کی نشاندہی کرے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور اس طرح طالبان بھی ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کریں تاکہ امن مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔