عوام کے تحفظ کی آئینی ذمے داری پوری کی جائے

آئین پاکستان حکومت پر یہ ذمے داری عائد کرتا ہے کہ وہ عوام کے جان و مال‘ عزت و آبرو اور کاروبار کے تحفظ کی ضامن ہے


Editorial March 04, 2014
نوازشریف کاسانحہ راولپنڈی پراعلیٰ سطحی اجلاس بلانااورچوہدری نثارکا قومی اسمبلی میں پالسی بیان دیناکوئی نئی سرگرمی نہیں۔فوٹو:ظفر اسلم/فائل

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع ضلع کچہری میں 2 خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان اور 4 وکلاء سمیت 11 افراد شہید اور 25 شدید زخمی ہوگئے ۔یہ واقعہ پیر کی صبح ساڑھے 8سے پونے 9بجے کے درمیان پیش آیا۔تحریک طالبان پاکستان نے اس واردات سے لا تعلقی کا اعلان کیا ہے البتہ احرار الہند نامی ایک غیر معروف تنظیم نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔ اس سانحے کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکیورٹی صورتحال، طالبان کے اعلان جنگ بندی اور اسلام آباد کچہری کے واقعے پر غورکیا گیا۔ اس اجلاس کے حوالے سے اخبارات میں جو خبریں شایع ہوئی ہیں ان کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت انتظامی نااہلی کسی صورت برداشت نہیں کریگی۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیف آف جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے عسکری قیادت کو ہدایت کی کہ دہشتگردی روکنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔ ملکی سلامتی ہر صورت مقدم رکھی جائے گی اورکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عسکری قیادت نے وزیراعظم کو داخلی سیکیورٹی پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسلام آباد کچہری واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی امن کوششوں کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف حکومتی عزم متزلزل نہیں ہوسکتا۔ پی پی آئی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ امن کے لیے آمادہ طالبان گروپوں کے ساتھ مذاکرات اور دہشتگردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں سانحہ اسلام آباد پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد جو مرضی کرلیں' ہمارا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ سانحہ اسلام آباد پرطالبان کا اظہار لاتعلقی کافی نہیں، واقعے میں ملوث لوگوں کی نشاندہی ہونی چاہیے اور ان کا سراغ لگایا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے طالبان کمیٹی کو بھی پیغام بھیجا ہے کہ کل ہی جنگ بندی کااعلان ہوا ہے اور آج یہ واقعہ ہوگیا ہے۔ اسلام آباد کچہری میں دہشتگردی کے واقعے میں طالبان سمیت گزشتہ دنوں پکڑے گئے 7دہشتگردوں کے ساتھی یا مذاکرات مخالف دہشتگرد ملوث ہو سکتے ہیں، طالبان خود اسلام آباد واقعے میں ملوث گروپ کو بے نقاب کریں۔ ہم ثابت قدمی سے دہشتگردی کامقابلہ کریںگے اور پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کرکھڑی ہوگی۔ کوئی بھی اس مسئلے پر سیاست نہ کرے اور ٹائم فریم کی بات نہ کرے۔ جو بھی اس معاملے پر سیاست کریگا وہ ملک کی سیکیورٹی سے زیادتی کریگا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا سانحہ راولپنڈی پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلانا اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا قومی اسمبلی میں پالسی بیان دینا کوئی نئی سرگرمی نہیں ہے۔ ملک میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے' اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیے جاتے ہیں' کچھ باتیں ہوتی ہیں اور کچھ فیصلوں کی نوید سنائی جاتی ہے' اس کے بعد پھر معمول کے کام اور غیر ملکی دورے شروع ہو جاتے ہیں' یہی حال ہماری سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت کا ہے' جس کے دل میں جو آتا ہے' بول دیتا ہے' کوئی کہتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے اور کوئی اپنے ہی لوگوں کا نام لے رہا ہے' یوں ہر طرف ایک بدنظمی' بدانتظامی اور لاپروائی کا دور دورا ہے۔ عوام کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ انھیں یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ عوام کی نمایندگی کے دعوے دار سیاستدان اور مذہبی لیڈر کن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں' یہ صورت حال یقینی طور پر مایوس کن ہے۔ان حالات سے ملک کا کاروباری طبقہ تھی پریشان اور مایوسی کا شکار ہو رہا ہے۔ملک میں بیروز گاری بڑھ رہی ہے۔جس کے نتیجے میں جرائم کا گراف بھی اوپر جا رہا ہے۔

مہنگائی نے عوام کو الگ سے پریشان کر رکھا ہے۔اوپر سے حکومتی پالیسیاں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ رہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک و قوم کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔جرائم پیشہ گروپ جہاں چاہتے ہیں کارروائی کر لیتے ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ درپیش نہیں۔اسلام آباد کچہری پر حملہ آوروں میں سے کچھ لوگ کامیابی سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ماضی میں ہونے والی وار داتوں کے بعد بھی حملہ آور آسانی سے فرار ہو گئے اور انھیں تلاش نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کوئی نیا مظہر نہیں ہے' کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ کون کیا کر رہا ہے' اس کے بارے میں بھی سب آگاہ ہیں' ایسے حالات میں بھی عوام کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ حکومت اپنے اخراجات کے لیے عوام پر ٹیکس عائد کر رہی ہے۔ عوام کے نام پر ہی غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جا رہے ہیں لیکن اس کے بدلے عوام کو کیا لوٹایا جا رہا ہے۔ آئین پاکستان حکومت پر یہ ذمے داری عائد کرتا ہے کہ وہ عوام کے جان و مال' عزت و آبرو اور کاروبار کے تحفظ کی ضامن ہے لیکن کیا حکومت اپنی یہ آئینی ذمے داری پوری کر رہی ہے؟ قومی اسمبلی کے آیندہ اجلاس میں اس بارے میں بھی وضاحت ہونی چاہیے۔